امریکی اعلان کے بعد صورتحال کشیدہ
اسرائیل اور لبنان کے درمیان دس روزہ جنگ بندی جمعہ 17 اپریل کی رات سے نافذ العمل ہو گئی ہے، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ تاہم، لبنانی فوج نے فوری طور پر جنوبی لبنان میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شکایت کی ہے، جس سے اس نازک معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ جنگ بندی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد عمل میں آئی ہے۔
خوشی کے گولے اور واپسی کی ہلچل
آتش بندی کے نفاذ پر بیروت کے جنوبی مضافات میں، جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں، خوشی میں فائرنگ کی گئی۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ دارالحکومت کے انہی علاقوں میں واپس آ رہے ہیں جو گزشتہ ہفتوں میں شدید نشانہ بنے تھے۔ کچھ افراد حزب اللہ کا پیلہ پرچم لہرا رہے تھے جبکہ کچھ تحریک کے سابق سربراہ حسن نصراللہ، جنہیں 2024 میں اسرائیل نے ہلاک کیا تھا، کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔
فوجی انتباہ اور خلاف ورزیوں کے دعوے
لبنانی فوج نے کہا ہے کہ معاہدے کی “کئی خلاف ورزیاں” ہوئی ہیں اور “کئی اسرائیلی جارحانہ کارروائیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن کے علاوہ متعدد دیہاتوں پر بکھرے ہوئے بمباری کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔” فوج نے جنگ سے بے گھر ہونے والے افراد سے فوری طور پر جنوبی لبنان واپس نہ آنے کی اپیل کی۔
اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس خطے میں اپنی زمینی تعیناتی برقرار رکھے گی اور عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے جنوبی کنارے پر واپس نہ آئیں۔
حزب اللہ کا جوابی کارروائی کا اعلان
حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوب مشرقی لبنان میں واقع شہر خیام کے قریب “اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع” کو نشانہ بنایا ہے، جو “قابض فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں” تھا۔ سرکاری خبر ایجنسی (این این آئی) نے اس مقام اور پڑوسی گاؤں دبین پر بمباری کی اطلاعات دی ہیں، اسی علاقے میں ڈرون کی شدید سرگرمیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
قیادت کے بیانات اور بین الاقوامی ردعمل
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم موسوی نے کہا کہ تحریک جنگ بندی کا احترام کرے گی “بشرطیکہ یہ ہمارے خلاف دشمنیوں کا مکمل خاتمہ ہو اور اسرائیل اس کا فائدہ اٹھا کر قتل و غارت کی کارروائیاں نہ کرے۔”
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے ایک بیان میں جنگ بندی کے “فوجی کارروائیوں کے تسلسل سے کمزور” ہونے پر اپنی “تشویش” کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “میں لبنان اور اسرائیل کی سرحد کے دونوں اطراف کے شہری آبادیوں کی سلامتی کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
تنازع کے پس منظر میں امید کی کرن
لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے جنگ بندی معاہدے کی تعریف کی ہے، اسی طرح بنجمن نیتن یاہو نے بھی اسے بیروت کے ساتھ “تاریخی امن” کا موقع قرار دیا ہے، حالانکہ انہوں نے حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی شرط پر بھی زور دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں پہلی ملاقات منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “مجھے امید ہے کہ حزب اللہ اس اہم دور میں اچھا برتاؤ کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہوگا۔”
انسانی بحران اور تباہی
لبنان مارچ کے آغاز میں اس وقت اس جنگ میں کھنچا آیا جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ 8 اپریل کو ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں۔ حکام کے مطابق، ان حملوں میں 2,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، ملک کی ایک پنجم آبادی، یعنی تقریباً دس لاکھ افراد، بے گھر ہوئے ہیں۔
