تولوز: فرانس میں سنسنی خیز ڈیلفائن جوبلر قتل کیس میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب سڈرک جوبلر کی اپیل کی سماعت مقررہ تاریخوں پر ممکن نہ ہو سکی۔ تولوز کی اپیل کورٹ نے منگل کو ایک سماعت کے بعد مقدمے کو 2027 کی پہلی ششماہی تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “صدر نے، باقی ماندہ کارروائیوں کی تکمیل، تفتیش کے پرسکون انعقاد اور فریقین کے حقوق کے تحفظ کے لیے درکار وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، سماعت ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔” یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سڈرک جوبلر نے پانچ سال سے زائد کی خاموشی کے بعد پہلی بار اپنی اہلیہ کی موت کا اعتراف کر لیا۔
پانچ سال بعد اعتراف اور لاش کی دریافت
38 سالہ پینٹر سڈرک جوبلر نے پہلے 6 جولائی کو ایک خط میں، اور پھر 15 جولائی کو تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ “ڈیلفائن اوساگل کی موت کا ذمہ دار ہے۔” ان کے وکلاء کے مطابق، اس نے اپنی اہلیہ کی لاش کو ان کے گھر سے تقریباً دس کلومیٹر دور ایک کھیت کے کنارے چھپانے کا انکشاف کیا۔ اس مقام سے ملنے والی ہڈیوں کے تجزیے سے تصدیق ہو گئی کہ وہ 33 سالہ نرس ڈیلفائن کی ہی تھیں، جو دسمبر 2020 میں لاپتہ ہو گئی تھیں۔
وکیل پیئر ڈیبیوسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ جوبلر کو اب احساس ہے کہ اس نے “ایک گھناؤنا فعل” انجام دیا ہے۔ اس سے قبل، لاش یا شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود، جوبلر کو گزشتہ اکتوبر میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
عدالتی اتفاق رائے اور آئندہ کی کارروائی
متوفیہ کے بہن بھائیوں کے وکیل لارنٹ ڈی کونز نے سماعت ملتوی ہونے کے بعد وضاحت کی کہ اس فیصلے پر “اتفاق رائے” تھا۔ یہ التوا نئی تحقیقات اور “سڈرک جوبلر کے نئے مؤقف کی روشنی میں شخصیت کی جانچ” کی اجازت دے گا۔ جوڑے کے بچوں کی وکیل ماریکا شمانی نے بھی اس اتفاق رائے کی تصدیق کی۔
تولوز کے ججوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ “اس التوا کے تناظر میں، یہ اشارہ دیا جا سکتا ہے کہ مسٹر جوبلر کی اپیل کی سماعت 2027 کی پہلی ششماہی کے دوران ہو سکے گی۔”
