رپورٹ میں انکشاف: گزشتہ برس 2400 سے زائد آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے
کراچی میں آتشزدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ شہر میں حفاظتی قوانین کی نافذکاری، ہنگامی تیاریوں اور احتساب کے نظام میں ناکامیوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈز کے مطابق صرف سال 2025 میں شہر میں تقریباً 2,400 آتشزدگی کے واقعات رجسٹرڈ ہوئے، جن میں معمولی واقعات سے لے کر جان و مال کے بھاری نقصان والے بڑے حادثات شامل ہیں۔
گل پلازہ کی تباہی: ایک المیہ کی داستان
ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ گذشتہ دہائی میں کراچی کی تاریخ کے مہلک ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ ہفتے کی رات ایک ہوم ڈیکور کی دکان سے شروع ہونے والی یہ آگ پورے عمارتی کمپلیکس میں پھیل گئی۔ 39 گھنٹے مسلسل کام کے بعد آگ پر قابو پایا جا سکا۔ اب تک 28 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ 70 سے زائد افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
ایک نہیں، متعدد المناک واقعات
گل پلازہ کا سانحہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ گذشتہ 10 سالوں میں کراچی نے مالز، مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں بڑے آتشزدگی کے متعدد واقعات دیکھے ہیں:
- دسمبر 2023: کراچی کے کرم آباد میں واقع ارشی شاپنگ مال میں آگ، 4 اموات
- نومبر 2023: آر جے شاپنگ مال کی چوتھی منزل پر آگ، 11 ہلاکتیں
- اپریل 2023: نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں فیکٹری آگ، 4 فائر فائٹرز شہید
- 2021: کورنگی کے مہران ٹاؤن میں فیکٹری آگ، 16 مزدور ہلاک
- 2015: ریجنٹ پلازہ میں آگ، 11 افراد جاں بحق
- 2012: بالڈیا ٹاؤن فیکٹری آگ، 259 کارکنان کی ہلاکت
مسلسل ناکامی کا ایک ہی ڈھر
ہر بڑے حادثے کے بعد ایک ہی روٹین دہرائی جاتی ہے۔ فائر بریگیڈ کی تاخیر پر تنقید، محکموں کی جانب سے ذمہ داری سے انکار، تحقیقاتی کمیٹیوں کا قیام، ایف آئی آر درج کرنا اور چند افراد کی حراست۔ تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود حقیقی احتساب کا عمل نظر نہیں آتا۔
بنیادی مسائل اور ناکامیاں
ماہرین کے مطابق کراچی میں آگ بجھانے کے نظام میں متعدد بنیادی خامیاں موجود ہیں:
- شہر کی تقریباً 35 ملین آبادی کے لیے محض 28 فائر اسٹیشنز
- آگ بجھانے والے دستوں کا صرف پانی پر انحصار، جدید فوم سسٹمز کا فقدان
- نجی اسٹیک ہولڈرز کے علاوہ سرکاری اداروں کی بے حسابی
- سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت متعلقہ محکموں کی نگرانی میں ناکامی
ماہرین کی وارننگ: اصلاحات ناگزیر
شہری سلامتی کے ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک ساختی اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں، جدید آگ بجھانے کی تکنیکوں کو اپنایا نہیں جاتا، فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہیں کروایا جاتا، اور نجی و سرکاری دونوں سطحوں پر احتساب کا حقیقی نظام قائم نہیں کیا جاتا، کراچی ایسے ہی مہلک آتشزدگی کے واقعات کا شکار ہوتا رہے گا۔

