ڈیوس: یورپی رہنماؤں نے منگل کے روز گرین لینڈ کے معاملے پر واضح لکیر کھینچ دی، جس میں واشنگٹن کی طرف سے کیے جانے والے خطرات کے خلاف “بے لچک” ردعمل کا وعدہ کیا گیا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوس میں اس خود مختار ڈنمارکی علاقے پر قبضے کے اپنے منصوبوں پر بات چیت کے لیے تیاری ظاہر کی۔
ٹرمپ کا پراسرار رویہ اور یورپی اتحاد
ڈیوس جانے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صرف یہ کہا، “تمہیں جلد پتہ چل جائے گا۔” انہوں نے کہا، “ہمارے پاس گرین لینڈ کے حوالے سے ڈیوس میں بہت سی میٹنگیں طے ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ معاملات بہت اچھے طریقے سے حل ہو جائیں گے۔”
دوسری طرف، عالمی اقتصادی فورم میں موجود یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کے ‘امریکہ فرسٹ’ ایجنڈے کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے خبردار کیا کہ ٹرمپ امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات کو “زوال پذیر” کرنے کا خطرہ مول رہے ہیں۔
فرانس اور جرمنی کی سخت تنقید
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے امریکہ کی جانب سے یورپ کو “ماتحت” بنانے کی کوششوں کے خلاف تنبیہ کی اور ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کے منصوبوں کی مخالفت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی دھمکیوں کو “ناقابل قبول” قرار دیا۔
وان ڈیر لیین نے امریکی محصولات کو “غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک ایسا چکر شروع ہو سکتا ہے جو صرف یورپ کے مخالفین کی مدد کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا، “لہٰذا ہمارا ردعمل بے لچک، متحد اور متناسب ہوگا۔”
نیٹو کا بحران اور عالمی ردعمل
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر لکھا کہ انہوں نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ “بہت اچھی” بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے ڈیوس میں “متعدد جماعتوں” سے ملنے پر اتفاق کیا۔
نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی گرین لینڈ کی کوششوں نے نیٹو کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، “نیٹو کا مستقبل اور عالمی نظام کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔”
گرین لینڈ کی تیاری اور بین الاقوامی حمایت
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے نوک میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگرچہ فوجی طاقت کا استعمال “غیر ممکن” ہے لیکن اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ہر امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ گرین لینڈ نیٹو کا حصہ ہے اور اگر تنازعہ بڑھتا ہے تو اس کے پوری دنیا پر نتائج ہوں گے۔”
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ کو روس اور چین کے خطرات سے بچانا چاہتے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس خطے میں ایک چھوٹا کھلاڑی ہے۔
چین اور کینیڈا کا موقف
چینی نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ نے ڈیوس میں خطاب کرتے ہوئے کہا، “چند منتخب ممالک کو اپنے مفادات کی بنیاد پر مراعات حاصل نہیں ہونی چاہئیں، اور دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جا سکتی جہاں طاقتور کمزوروں کا شکار بناتے ہیں۔”
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی ڈیوس میں گرین لینڈ کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے “امریکی بالادستی” کے دور سے فائدہ اٹھایا ہے، لیکن اب موجودہ بین الاقوامی نظام کا دفاع کرنے کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کرنی ہوگی۔
یوکرین کا خدشہ اور مستقبل کے اقدامات
یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے منگل کو اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ گرین لینڈ پر ہونے والے جھگڑے سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔ انہوں نے “مکمل پیمانے پر جنگ کے دوران توجہ کے مرکز سے ہٹنے” کے بارے میں خبردار کیا۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے گرین لینڈ پر برسلز میں جمعرات کو ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران، کریملن نے کہا ہے کہ روسی ایلچی کریل دمتریو ڈیوس میں امریکی وفد کے اراکین سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پہلی بار ہے کہ روسی نمائندے اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

