geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
July 14, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • US and Iran Halt Fire Again in Ormuz Strait Standoffآبنائے ہرمز پر دشمنی کا نیا خاتمہ، بحری آمد و رفت بحال؛ قطر میں تکنیکی مذاکرات متوقع
    • Heatwave Survival Guide for Summer Travelersگرمی کی لہر میں سفر: ماہرین کی انتباہات اور چھٹیاں محفوظ بنانے کے 7 سنہری اصول
    • Heatwave’s Hidden Toll: Women Carry Mental Load at HomeHeatwave’s Hidden Toll: Women Carry Mental Load at Home
    صحت و تندرستی
    • France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°Cفرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان
    • WMO Warns Strong El Niño to Develop Rapidly by Fallال نینو ستمبر تک طاقتور صورت اختیار کر لے گا، عالمی ادارے کی شدید موسم کی وارننگ
    • Swimming in the Seine Returns: Paris Opens Three Bathing Sites for Summerپیرس میں سین میں تیراکی کا شاندار آغاز، تین مقامات پر ڈبکی لگانے کی اجازت مل گئی
    دلچسپ اور عجیب
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • Southern France on Red Alert as Wildfire Danger Peaksفرانس میں جنگلات کی آگ کا ریڈ الرٹ: چھ اضلاع انتہائی خطرے کی زد میں، تیز ہوائیں پریشانی کا باعث
    • Wikipedia Founder Rejects AI for Article Editingوکیپیڈیا کے شریک بانی کا اے آئی ایڈیٹنگ کو مسترد کرنے کا اعلان، ’ہیلوسینیشنز‘ کو سنگین مسئلہ قرار دے دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • WhatsApp to Drop Phone Numbers for Usernamesواٹس ایپ کا بڑا فیصلہ: اب موبائل نمبر شیئر کیے بغیر چیٹنگ ممکن، صارفین کے لیے پرائیویسی کا نیا دور
    • Anthropic to Require ID Verification for Claude Usersکلاڈ چیٹ بوٹ استعمال کرنے والوں کے لیے انتھروپک کی نئی شرط: شناخت اور عمر ثابت کرنا ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا!

July 29, 2020 1 1 min read
Karachi
Share this:

Karachi

تحریر : شیخ خالد زاہد

کچھ حقیقتیں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ انکا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا، لیکن سچائی چیخ چیخ کر اس حقیقت کو حرف عام بنا دیتی ہے۔ ہم بارہا بے حسی کا تذکرہ کرتے رہے ہیں اور یہ حقیقتیں اور یہ سچائیاں بھی اس بے حسی کی بھینٹ چڑھتی جا رہی ہیں بلکہ تقریباً چڑھ ہی چکی ہیں۔ ہمارے ملک میں روزانہ رات آٹھ بجے سے تقریباً گیارہ بجے تک ٹیلی میڈیا پر بڑے بڑے سیاسی فلسفی جلوہ گر ہوتے ہیں اور حالات و اقعات پر بھر پور گفتگو ہوتی ہے۔کچھ تو مانتے ہیں کہ یہاں بیٹھ کر ہی انکی روزی روٹی کا بندوبست ہوتا ہے باقیوں کا علم نہیں کہ وہ فقط روزی روٹی کی خاطر وہاں بیٹھے ہوتے ہیں یا پھرکوئی اور وجہ انہیں وہاں بیٹھائے رکھتی ہے۔ اب سچ بولنے کا رواج رہا نہیں، اب صرف بولنے کا رواج ہے یعنی آپ کے سامنے مائیک اور کیمرہ ہے اب آپ بولیں۔ ایسا نہیں کہ یہ کام صرف ٹیلی میڈیاپر سرانجام دیا جارہا ہے بلکہ پڑنٹ میڈیا اور سماجی میڈیا والے بھی سیاسی کیا، معاشرتی کیا،مذہبی کیا، تقریباً ہر موضوع پر طبع آزمائی کرتے دیکھے جاسکتے ہیں اور بڑے بڑے مسائل کے حل بھی تلاش کئے جاسکتے ہیں، ہم بھی اپنے آپ کو ان لوگوں میں شامل رکھتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بدبودار پانی میں چھلانگ لگا ہی دیتے ہیں۔ حالات اور وقت کا تقاضہ ہے کہ بھلے کچھ کرو یا نا کرو لیکن دونوں ہاتھو ں سے ڈھول پیٹنا شروع کردو کہ یہ کیا ہوگیا یہ کیاہوگیا۔ سنتے ہیں کہ گزرے زمانوں کی عزت کی بقاء کی خاطر بڑے بڑے حادثے اور سانحہ لوگ خاموشی سے سہہ جاتے تھے (یہ غلط تھا یا صحیح پھر اور کبھی کیلئے رکھ چھوڑتے ہیں)۔آج تو گھروں کے بہت ہی اندر کی خبروں میں نمایاں کر نے کی استدعا کی جاتی ہے اور سماجی ابلاغ پر رجحان (ٹرینڈ) چلائے جاتے ہیں۔

کراچی چیخ رہا ہے درد کی شدت سے، کرب کی حد ت سے، کراچی اس وقت سے چیخ رہا ہے جب آخباروں میں لاشوں کی گنتیاں شائع ہوتی تھیں اور جس دن ایک یا دو کم ہوتی تھیں تو کچھ کراچی کے شہری حالات کو اچھا سمجھنے لگتے تھے یہ وہ وقت تھا جب پورا پاکستان کراچی کے نام سے خوفزدہ ہوجاتا تھا اور شائد سوائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کے کہیں سے کراچی کوئی نہیں آتا تھا۔ روشنی کی علامت سمجھا جانے والا شہر خوف و دہشت کی ویرانی سے اٹ گیا اور ناحق خون میں ڈوب گیا تھا۔ پھر امن کا سورج طلوع ہوا پھر کراچی کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوئیں لیکن اب کراچی والے خوف اور دہشت کے موذی مرض میں بری طرح سے مبتلا ہوچکے تھے جس سے بچنے کیلئے ان زبوں حال لوگوں نے خود کو پان، سگریٹ، گٹکے اور دیگر نشوں کے حوالے کردیا۔ ایک طرف جلاؤ گھیراؤ ہڑتالوں کی وجہ سے شہر برباد ہواتو دوسری طرف شہری بھی برباد ہوتے چلے گئے۔علم کے متوالوں کے شہر سے، علم کورخصت دے دی گئی جوکہ تاحال ملی ہوئی ہے اور اب بہت مشکل سے کوئی با ادب با ملاحظہ سے واقف ملتا ہے (ملتا ہے ایسا نہیں کہ نہیں ملتا)۔بد قسمتی سے علم سے دوری نے اردو بولنے والوں کو انکی اپنی زبان سے دور کر دیا، بولتے تو اردو ہی ہیں لیکن وہ اردو جو ادب سے عاری اور مغلظات سے بھرپور ہوچکی ہے۔

کراچی جو کہ پاکستان کے سب سے منظم شہروں کی فہرست میں اول نمبر پر آتا تھا، سیاست اور مفادات کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے شائد اس فہرست میں سب سے آخری نمبر پر پہنچ گیا ہوگا۔ جہاں اس بات پر اغیار نے جشن منایا ہوگا تو اس میں اپنے بھی خوب شامل رہے ہونگے۔ پچھلے کچھ سالوں سے گرمی کی شدت بھی کراچی والوں پر غیض و غضب ڈھا رہی ہے پھر بادل برستے ہیں یعنی بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی شہر کی سڑکوں کو ڈبودیتا ہے۔ کراچی اور کراچی والوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے، حکومت سندھ کام نہیں کرتی کیوں کہ کراچی والے انہیں ووٹ نہیں دیتے کراچی والے ایم کیو ایم (پاکستان) کو ووٹ دیتے ہیں جو وفاق میں تو حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اپنے شہر کے صوبے میں حزب اختلاف کا حصہ بن جاتے ہیں، گوکہ کراچی کی مئیر شب ایم کیو ایم (پاکستان) کے پاس ہی رہی ہے کراچی کا ناظم بھی ایم کیوایم (پاکستان) سے ہی رہا لیکن مشکل یہ رہی ہے کہ ترقیاتی اور عمومی اخراجات حکومت سندھ کی طرف سے ملنے ہوتے ہیں جہاں ایم کیوایم (پاکستان) حکومت مخالف جماعت ہے۔یہ صرف کراچی ہی کی نہیں بلکہ پورے سندھ کی بد قسمتی ہے رہی ہے کہ یہاں ترقی کو رسائی دی ہی نہیں گئی۔ کراچی کی معاشی اہمیت کی بدولت ہمیشہ وفاق کی خصوصی گرانٹ کی مرہونِ منت کچھ کام ہوئے،ایک طرف ایم کیو ایم (پاکستان) سے نکلے ہوئے افراد نے پاک سرزمین پارٹی کی بنیاد رکھنے والے مصطفی کمال صاحب جوکہ سابقہ ناظم ِ کراچی رہ چکے ہیں انکے دور میں کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا سارا کا سارا سہرا اپنے سر باندھتے دیکھائی دیتے ہیں جوکہ ایک حد تک صحیح بھی ہے کیونکہ وفاق سے (اسوقت کے صدر پرویز مشرف صاحب)ملنے والی رقم کو اس طرح سے شہر کی تزئین و آرائیش پر لگتا کبھی پہلے یا بعد میں نہیں دیکھا جا سکا ہے۔

ہمارے ملک میں ایک شہر سے دوسرے میں باقاعدہ سکونت اختیار کرنے کے حوالے سے کوئی ضابطہ نہیں ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی میں روزگار کے لئے آنے والے مکمل سکونت اختیار کرتے چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کی آبادی جوکہ سن دو ہزار (۰۰۰۲) میں لگ بھگ اٹھانوے لاکھ تھی اور دوہزار بیس میں کراچی کی آبادی دوکروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ کراچی میں بے قاعدگیوں کی ایک نا ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔ کراچی سب کا ہے لیکن کیا صرف اس لئے کہ اسے نوچ نوچ کر کھایا جائے اس لئے نہیں کہ اس کا خیا ل بھی رکھا جائے۔ جس حساب سے آبادی بڑی اس حساب سے کوئی کام نہیں ہوا۔کراچی شہر دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس شہر کے مسائل بھی بڑے بڑے ہی ہیں پینے کا پانی نایاب ہے، بجلی کا ہونا نا ہونا ایک برابر ہے اس پر بجلی کے بل من مانی، ہر طرف کچرہ کنڈی نے کراچی جیسے شہر کو کچرہ کنڈی میں بدل کر رکھ دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر ہم نے گندے پانی کے نکاس کے نظام (سیوریج) پر کبھی بھی خاطر خواہ دھیان نہیں دیا بس چل سو چل والی حکمت عملی پر گامزن رہے۔

ایسا بھی سنتے آئے ہیں کہ کراچی کوتو سمندر بدر ہونا ہی ہے تو آجکل جو کراچی صورتحال ہے وہ بلکل ایسی ہی دیکھائی دے رہی ہے کہ کہ کراچی ڈوب رہا ہے۔ بارش کیساتھ ساتھ الزام تراشیوں کی بھی بارش جاری ہے کوئی کراچی کی تباہی کی ذمہ داری کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے،یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کراچی کو اہمیت دینے کی کوشش ہی نہیں کی اور اس بات کا واضح ثبوت کراچی کی بد سے بدتر ہوتی ہوئی صورت حال ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آبائی حلقوں میں کبھی کام نہیں کرایا تو وہ کراچی جیسے شہر کیلئے کیا کرینگے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کراچی ایک ایسی لاش ہو جسے نامعلوم لوگوں نے قتل کردیا ہو اور اب کوئی اس لاش کو اٹھانے والا بھی نا ہو کیونکہ کراچی کی نامعلوم لاشوں کے وارث ایدھی صاحب بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔ رات گئے جب اپنی بالکونی میں کھڑا سڑکوں اور گلیوں میں پانی اور دور تک پھیلے ہوئے اندھیرے کو دیکھتا ہوں تو کراچی کی نم آلود ہوائیں کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہوئی گزر جاتی ہیں کہ ×ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا×۔
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Pakistan Corona Patient
Previous Post پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد گھٹ کر 31405 رہ گئی
Next Post غریب کا پاکستان یا چوروں کا؟
Justice

Related Posts

France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°C

فرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان

July 3, 2026

فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش

July 3, 2026
Heatwave Returns: Orange Alert Issued for Saturday

شدید گرمی کی واپسی: میٹیو فرانس نے ہفتہ کے لیے اورنج الرٹ دوبارہ جاری کر دیا، کہاں پڑے گی سب سے زیادہ گرمی؟

July 3, 2026
France Heatwave Death Toll Surges Past 2,000

فرانس میں ہیٹ ویو کی تباہ کاری: ایک ہفتے میں 2,025 سے زائد اموات، گھروں میں ہلاکتوں میں 91 فیصد اضافہ

July 3, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.