geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کشمیر اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

June 19, 2019June 19, 2019 0 1 min read
Kashmiris
Share this:

Kashmiris

تحریر : میر افسر امان

خطہ جنت نظیر کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی سفاک اور وحشی فوج مظالم کے پہاڑ توڑے رہی ہے۔کیا کیا جائے، اس وحشت بھری ہندو قوم پرستی کے جن نے، انسانیت کے منصوعی روپ میں شیطان کا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے۔اسی قومیت کو محسنِ انسانیت پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علی و سلم نے اپنے آخری خطبہ حج الودع میں یہ کہہ کر اپنے پیروں تلے روند دیا تھا کہ کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں۔ انسانیت کی برتری تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر۔ کوئی بھی غیر مذہب کا پیرو مسلمان ہو کر برابر کا حق دار بن سکتا ہے۔ قرآن کے مطابق قومیں تو صرف اور صرف پہچان کے لیے ہیں۔مسلمانوں نے جب تک ان الہی تعلیمات پر عمل کیا تو عرب کے چرواہوں کو اللہ نے دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا۔دنیا کی ساری قومیں ان کے طریق ِزندگی پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ اپنے رہن سہن تہذیب تمدن اور معاشرت میں مسلمانوں کی مثالیں دی جاتی تھیں۔فتوحا ت کی بات کی جائے توبنو امیہ کے دورخلافت کے ٩٩ سال کے اندر اندر دنیا کے اُس وقت کے معلوم چار براعظموں کے غالب حصہ پر مسلمانوں نے اپنے سلطنتیں قائم کر دیں تھیں۔

اگر بھارت کی وحشت بھری قوم پرستی کی بات کی جائے، تو سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے کوئی اور نہیں۔ کشمیری مسلمانوںکے ہم وطن ہیں۔جن کی مسلمانوں سے ہزاروں سالوں کی شناسائی ہے۔جن پر خود مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زاہد مدت تک حکمرانی کی تھی۔ وہ اکثریت میں تھے اورمسلمان اقلیت میں تھے۔ مگر اسلام کے بتائے ہوئے طرز حکمرانی پر عمل کرتے ہوئے مسلمان بادشاہوں نے اکثریت کو مطمئن کررکھا تھا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں اتنی طویل مدت تک کسی بھی قوم نے حکمرانی نہیں کی۔

کیا انگریز اپنے کم تر نظام ِ حکومت اور عوام پر مظالم کی انتہا کی وجہ سے ہندوستان پر صرف دو سو سال حکمرانی کرنے کے بعد ملک ِ ہندوستان نہیںچھوڑ گئے تھے؟کیا انگریز کے دور میں ہوٹوں کے بورڈوں اورپارکوں کے دروازوں یہ الفاظ نہیں لکھے ہوتے تھے کہ اس میں صرف انگریز داخل ہو سکتے۔ کسی کتے( ہندستانی) کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ کیا فرانس کے باشاہ نے حکم نامہ نہیں جاری کیا تھا کہ موروں(مسلمانوں) کو قتل کرو اور ہنددئوں کو حکومت میں ملازم رکھو۔ کیا مسلمانوں کی طرف سے لڑی گئی ١٨٥٧ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو توپوں کے سامنے باندھ کر اُڑا نہیں دیا گیا تھا؟مسلمانوں کی جادایدیں ضبط نہیںکی گئیں؟ کالے پانی کی سزائیں نہیںدی گئیں؟ یہ ہی وجوہات تھیں کے عوام میں انگریزوں سے نفرت پیدا ہوئی اور بلا خروہ ہندوستان سے بھاگ گئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے ہنددئوں کو آزادیاں اور بنیادی انسانی حقوق دیے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک ہندوستان پر حکمرانی کی ۔ بلکہ ہندو مسلمانوں سے نفرت کرنے کے بجائے کروڑوں کی تعداد میں ہندو مہذب چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔

ہم نے موددی سرکار کو اپنے ایک کالم مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں پر مظالم بن کروورنہ تمھاری حکومت ختم ہو جائی گی۔اوراللہ کے قانون کے مطابق کو عادل حکمران آ جائے گا۔کالم کا عنوان تھا” موددی ہم نے تم پر ایک ہزار حکمرانی کی، تم سو سال تو پورے کرو”۔کیا بھارت کے قوم پرست حکمران بھارت میں اتنے زیادہ مظالم کے بعد دیر تک حکمرانی کر سکتے ہیں؟کیا وہاں بھارت میں مسلمانوں پران مظالم کی وجہ سے ایک اور پاکستان بننے کی زمین ہموار نہیں ہو رہی؟َتاریخ کاتو ہی سبق ہے کہ کفر کی حکمرانی تو چل سکتی ہے ظلم کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔اس فارمولے کے تحت بھارتی حکمران بھارت کو ہندو ریاست بنا کر تو حکومت کر سکتے ہیں۔ یہ ہندو قوم کا حق ہے کہ اپنے مذہب کو اپنے ملک میں رائج کرے۔مگر بھارت کے قوم پرست حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کی قیمت پر حکومت بل لکل نہیں کر سکتے؟ یہ تاریخ کا سبق ہے اگر بھارت کے قوم پرست حکمران اسے پڑھ لیں تو ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اور ایک خاص بات بھی عرض کر دو کہ بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کو جس وقت بھی اپنا بھولا ہوا سبق یاد آ گیا۔ تو بھارت کے مظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ پھر بھارت کیا بھارت کے حمایئتی بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھر سکیں گے۔وہ سبق جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بھارت کیا، دنیا کا جابر سے جابر ظالم بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔

مسلمانوں کے دور حکومت کی یہ خوبی تھی کہ مسلمانوںنے اکثریت کے دھرم یعنی ہندو مذہب کوبل لکل نہیں چھیڑا گیا۔ ہنددئوں کو اپنے مذہب عمل کرنے کی مکمل اجازت تھی۔ انسانی حقوق میں مسلمان اور ہندو برابر تھے۔مغل مسلمان بادشا ہ بابر نے اپنے بیٹے ہمایوں کو نصیحت کی تھی کہ ہنددئوں کے مذہب کا ا حترام کرنا۔اسی مغل بادشاہ بابر کی بنائی ہوئی، بابری مسجد کو انتہاپسند ہنددئوں نے حکمرانوں کی آشیر اباد پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔اب عدل جہانگیر رائج کرنے والے مغل بادشاہ کے بنائے ہوئے، دنیا کے آٹھویں عجوبہ، تاج محل آگرہ کو مسمار کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ ہمایوںکے بیٹے مغل اعظم اکبر نے ہنددئوں کو حقوق سے کچھ زیادہ ہی دیاتھا۔ شیر شاہ سوری نے جرنیلی روڈ پر ہندو اور مسلمان سرائیں تک علیحدہ علیحدہ بنائیں تھی۔اورنگ زیب عالم گیر عوام کے خزانے سے خرچہ لینے کی بجائے ٹوپیاںسی کر اپنا خرچ چلاتا تھا۔ ہندوستان سارے مسلمان بادشاہوں نے ہنددئوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔اسلام امن اور شانتی کا دین ہے۔ اس میں کسی کو ذبردستی مسلمان نہیں بنایا جا سکتا۔مسلمانوں نے ہندوستان میں کہیں بھی مندر کو توڑ کر مسجد یں نہیں بنائیں۔یہ بھارتی سیاستدانوں کے چھوڑے ہوئے شوشے ہیں ۔ ہنددئوں کو مسلمانوںکے خلاف اُکسا کر ووٹ حاصل کرنے کے حربے ہیں۔یہ مسلمان بزرگانِ دین تھے کہ جنہوں نے اسلام کے پر امن اور شانتی والے مذہب کی اپنے خانقائوں میں بیٹھ کر تبلیغ کی اور کروڑوں ہندو مسلمان ہو گئے۔ مسلمان حکمرانوں نے ہنددئوں کے مقامی راجائوں کو بھی عوام پر مظالم سے روکے رکھا۔ہندو راجائوںکو صرف سیاسی غلبہ کے بعد مکمل مذہبی آزادی تھی۔اسی لیے وہ اپنے ہندو عوام کو مسلمان بادشاہوں کی اطاعت پر راضی کرتے رہے۔

اس کے برعکس بھارت میں مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ واپس شدھی ہو جائو ورنہ پاکستان چلے جائو۔مسلمان کو پاکستان کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔گائے کا گوشت کھانے کے شک میں بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا کہ مسلمان ہندو ئوں کی طرح اپنے مردوں کو جلائیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے قبرستانوں کی جگہ نہیں۔ آذان پر پابندی لگائی جاتی ہے۔کشمیر میںجمعہ کی نماز پر ہوتی ہے۔ مزاروں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ مسلمان کو باندھ کر مارا جاتا اور جے شری رام کہنے کو کہا جاتا۔مسلمانوں کوبھارت کے آئین کے مطابق نہ نوکریاں ملتی ہیں نہ ہی تعلیمی ادروں میں داخلے ملتے ہیں۔سچر رپورٹ اور دوسری رپورٹیں مسلمان کی خستہ حالی کا رونا رو رہی ہیں۔ مسلمان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک ہوتا ہے۔ مسلمان سرکاری نوکری نہ ملنے پر چھاپڑی ،دکان اور چھوٹاموٹا کارخانہ لگاتے تو مذہبی ہنگامے کرواکر مسلمانوں کے کاروبار کو خاکستر کر دیا جاتا ہے۔

کشمیر میں تو سفاک بھارت کی نسل پرست فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔پہلے کشمیری نوجوان کو گرفتار کرتے ہیں۔ مسنگ پرسن قرار دے دیتے ہیں۔ ازیتیں دے دے کر قتل کر دیتے ہیں۔پھر جھوٹاانکائونٹر ظاہر کرکے لاش ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔ اگر وادیوں کی تلاش میں گھر گھر کی تلاشی لیتے ہیں۔گھروں کا گیرائو کر کے عورتوں کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہے۔ اب تک دس ہزار سے زاہد کشمیریوں بے گناہ محصوم عورتوں کی اجتماعی آبروزیزی کر چکے ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو غائب کر دیا ہے جسے عام زبان میںمسنگ پرسن کہتے ہیں۔کشمیر میں درجنوں اجتماہی قبریں دریافت ہو چکیں ہیں۔ ہزاروں کشمیری بھارت کی جیلوں میں سٹر رہے ہیں۔جیلوں سے جوکشمیری رہا ہوئے، ان کو عبرت بنا کر زندہ لاشیں بنا کر چھوڑاجاتا، تا کہ باقی کشمیری نوجوان خوف زدہ ہو کر اپنی آزادی کے نعرے نہ لگائیں۔١٩٤٧ء کے بعدایک لاکھ کشمیری شہید کر دیے گئے۔ اس سے قبل مہاراہہ کی غلامی کے دوران پانچ لاکھ کشمیری شہید کیے گئے۔ کشمیر شہیدوں کے قبرستانوں سے بھر گیا ہے۔آزادی کی بات کرنے والے کئی کشمیری سیاسی لیڈروں کو شہید کر دیا گیا۔سیاسی لیڈروں کو آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی رہبری سے روک کر جیل ڈال دیا جاتا ہے یاہائوس اریسٹ رکھا جاتا ہے۔ کشمیری لیڈرشبیر شاہ کو دنیا نے ضمیر کا قیدی مانا۔ کالج کی بچیاں جب آزادی کے مظاہروں میں شریک ہوتی ہیں تو ان کو گرفتار کر کے ان کی چوٹیاں کاٹی جاتی ہیں۔ کشمیری نوجوان کو فوجی جیب کے بونٹ سے باندھا جاتا ہے کہ پتھر اس پر پڑھیں اور بھارت فوجی سورما بچے رہیں۔کشمیریوں پر بلیٹ گنیں چلا کر کشمیریوں اندھا کیا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کی زری زمینوں ، پھلوں کے باغوں اور دوکانوں پر گن پائوڈو چھڑک کر کاکستر کر دیا جاتا ہے۔ مکانوں میں باردو رکھ کر انہیں اُڑا دیا جاتا ہے۔ ظلم کی ایک لمبی داستان ہے کتنی بیان کیجائے۔ دنیا کی آزادی کی تاریخوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو کشمیری پر بھارتی قوم پرست فوجیوں کے مظالم سرے فہرست ہو ںگے۔ کسی بھی صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیم کو کشمیر میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی فوجیوں کے کچھ مظالم کے واقعات اپنی رپورٹ میں آشکار کیے ہیں۔ جس کو ساری انصاف پسنددنیا نے ظلم مانا ہے۔ مگر بھارت تو حکومتی سطح پر کشمیریوں کو ہمیشہ غلام رکھنے کے بھارتی آئین کی اسپیشل دفعہ ٣٧٠ اور٣٥a ،جس کے تحت کشمیر میں کوئی غیر کشمیری جائداد نہیں خرید سکتا، اے ختم کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔

تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق،پاکستان مسئلہ کشمیر کا تیسرا فریق ہے۔کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ان حالات میںکشمیر کے مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے ۔ وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ ہے۔کشمیر کے مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں۔ اس لیے ان کی مدد کرنا مسلمانوں کا مذہبی بھی فریضہ ہے۔ پاکستان کی حکومت کو بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا چاہیے۔ علماء قرآن و حدیث کی روشنی میں حکومت کی تائید کرنے کا اعلان کریں۔کیا دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت دیتا کی ایک قوم کسی قوم کو ختم کرنے کا اعلان کرے اور دوسری قوم اس کے سامنے اپنے سر رکھ دے کہ آئو اور ہمیں ختم کر دو۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ،تو پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنے دین کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ کا عام کا اعلان کر دینا چاہیے۔ سسک سسک کر مرنے سے بہتر کہ میدان جہاد میں جان دے دی جائے۔

ورنہ بھارت کشمیر تو کجا، قوم پرست ہندو، پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کے اپنے پرانے منصوبے پر اپناعمل کر کے رہے گا۔ موددی خود دہشت گرد تنظیم ،انتہاپسند،قوم پرست آر ایس ایس تنظیم کا بنیادی رکن ہے۔ موددی نے الیکشن مہم کے دوران بھارت عوام میں پاکستان سے جنگ کا سمع پیدا کیا۔ پاکستان کو سبق سکھانے کے منشور پر الیکشن جیت کر اقتدار میں آیا ہے۔ موددی حکومت کوآر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہا پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔سیاسی محاذ پر،پاکستان کے وزیر اعظم کو موددی سے بار بار امن کی درخواست کرنے کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ جب تک بھارت کشمیر کو متنازہ مسئلہ تسلیم نہیں کرتا مذ اکرات کی بات نہیں کرنا چاہیے۔ بھارت کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف نہرو۔ لیاقت معاہدے کے بات کرنی چاہیے۔ہمیںیاد رکھنا چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے۔بھارت گلگت اور بلوچستان میں کھلے عام دہشت گردی کرو ارہا ہے ۔اپنی عوام کو اعتماد میں لے کرکشمیر میں جاری تکمیل پاکستان کی تحریک کی مکمل پشتہ بانی کرنی چاہیے۔ پاکستان اور کشمیر کے عوام ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس تنظیم نے اپنا انسانیت دوست منشور کے مطابق کشمیر میں بھارت کے مظالم کو مہذب دنیا کے سامنے پیش کیا۔کشمیر کے مظالم ایک نہ ایک ضرور ختم ہونگے اور کشمیری آزادی کا سانس لیں گے۔ ان شاء اللہ۔
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Refugees
Previous Post مہاجرین کا عالمی دن اور مہاجرین کا المیہ
Next Post تیسرا کمشنر کراچی SSB کپ باسکٹ بال ٹورنامنٹ: دفاعی چمپئن بائونس کلب اور ممبا اسکواڈ نے کامیابی سمیٹ لی
SSB CUP BASKETBALL TOURNAMENT

Related Posts

Sarkozy Shifts Strategy in Libyan Funding Appeal Trial

نکولس سرکوزی کی لیبیا فنڈنگ کیس میں آزمائش: سابق صدر نے گوانٹ کے الزامات کی تردید کی لیکن پرانے ساتھی کو بچایا

April 29, 2026
US-Iran War: Truce Talks Continue Amid Strikes

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں، ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطے کا انکشاف

April 29, 2026
Pakistan Strikes Afghan Taliban in Operation Ghazab lil-Haq

آپریشن غضب للہ حق: افغان طالبان کے 796 دہشت گرد ہلاک، 286 چوکیاں تباہ

April 29, 2026
Pakistan Transfers Three IHC Judges Amid Controversy

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری

April 29, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.