دورے کے اہم پہلو
اسلام آباد: قازقستان کے صدر کاسم جماعٹ ٹوکایف کل سے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر آ رہے ہیں۔ یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر دو روزہ ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، منطقائی رابطوں اور باہمی تعاون کے نئے راستوں پر غور کیا جائے گا۔
اعلی سطحی ملاقاتیں اور اجلاس
وزارت خارجہ کے مطابق صدر ٹوکایف اپنے ہمراہ اعلی سطحی وفد کے ساتھ آئیں گے جس میں سینئر وزراء اور دیگر اہم عہدیدار شامل ہیں۔ دورے کے دوران وہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مفصل مذاکرات کریں گے۔
کاروباری فورم سے خطاب
صدر قازقستان پاکستان-قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “یہ دورہ دونوں اطراف کو باہمی تعلقات کا جامع جائزہ لینے، تعاون کے نئے ذرائع تلاش کرنے اور منطقائی و بین الاقوامی فورم پر مشترکہ کام کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔”
تعلقات میں استحکام
بیان میں مزید کہا گیا کہ “یہ آئندہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط ہوتے روابط، تاریخی و ثقافتی قربت کو مستحکم تعاون میں بدلنے کے باہمی عزم اور خطے میں امن و ترقی کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔” گزشتہ سال ستمبر میں قازقستان کے نائب وزیراعظم مرات نورتلیو کے پاکستان دورے کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے تعاون کا ایکشن پلان بھی دستخط کیا تھا۔
دورے کی اہمیت
یہ دورہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان جغرافیائی رابطے بڑھانے کی کوششوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ خطائی تعاون کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

