سڑک پر کھلے مین ہول میں ماں اور بیٹی کی ہلاکت پر چیف منسٹر کا سخت ردعمل
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بدھ کے روز بھاٹی گیٹ کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر ماں اور 10 ماہ کی بچی کی ہلاکت کے واقعے پر ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
چیف منسٹر کا ہدایات جاری کرتے ہوئے بیان
لاہور ایئرپورٹ کے لاؤنج میں خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پولیس انسپکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور کو پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال، سائٹ انچارج احمد نواز اور واسا اہلکار عثمان بابر کی “سنگین غفلت” پر گرفتاری کا حکم دیا۔
انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور واسا اہلکار کو ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ کہا کہ “ان دو افسران کو کوئی نوکری نہ دی جائے تاکہ انہیں ان کی مجرمانہ غفلت کی سنگینی کا احساس ہو۔”
خاندان کو معاوضہ اور انصاف کا وعدہ
چیف منسٹر نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان کو ٹھیکیدار کی جانب سے 1 کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے واقعے کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ “بھاٹی گیٹ کا واقعہ اور قتل میں کوئی فرق نہیں ہے۔”
انہوں نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر، لاہور کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو بھی اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ کا موقف
اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بات کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا: “لاہور کے دل میں ایک معصوم جان کا ضائع ہونا محض ایک حادثہ نہیں، یہ ایک جرم ہے، اور اس نے میرے سر کو شرم سے جھکا دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک انصاف نہیں ملتا، دونوں بیٹیوں کے خون کا حساب نہیں ہوتا، اور ہر ذمہ دار افسر کو سزا نہیں ملتی۔”
پولیس کی کارروائی اور مقدمہ درج
ادھر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں نامزد تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں پروجیکٹ مینیجر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال، اور سائٹ انچارج احمد نواز شامل ہیں۔
مقدمہ مرحومہ کے والد ساجد حسین کی جانب سے درج کرایا گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 (حادثاتی موت) کے تحت درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مین ہول کھلا چھوڑنے میں غفلت برتی جس سے المناک واقعہ پیش آیا۔
چیف منسٹر کا حتمی وارننگ
مریم نواز نے واضح کیا: “غفلت اور بے ایمانی کرنے والے افسران کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ میں اس خاندان کے لیے ڈھال بن کر کھڑی رہوں گی جسے انصاف دلانے کے بجائے پریشان کیا گیا۔”
انہوں نے زور دے کر کہا: “پنجاب میں ہر زندگی کی قدر ہوگی، چاہے ملوث افسر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔”

