geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 16, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Long Covid's Psychological Theory Sparks Patient Outcryطویل کووڈ: علاج کی تلاش میں نفسیاتی نظریہ متنازعہ بن گیا
    • The '777 Rule' for Couples: Viral Trend or Relationship Savior?جوڑوں کے لیے ‘777 اصول’: کیا یہ محض ایک وائرل ٹرینڈ ہے یا مفصل مشورہ؟
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    دلچسپ اور عجیب
    • Russia's S-500 Prometheus: The Next-Gen Air Defense Systemروسیہ کا ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا نیا جنگی نظام
    • The Night Belongs to Us: Women's Complex Relationship with Darknessرات اور عورت: آزادی کی خواہش اور خوف کے درمیان محصور وجود
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Pioneer Yann LeCun's Startup AMI Raises $1 Billionیان لی کن کی اے آئی اسٹارٹ اپ اے ایم آئی نے ‘ورلڈ ماڈلز’ کے لیے ایک ارب ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

! کے الیکٹرک مجرم ہے

June 19, 2021 0 1 min read
K-Electric
Share this:

K-Electric

تحریر : عائشہ یاسین

کراچی میں نہ بارش ہوئی، نہ کہیں بجلی کی تاریں گریں، نہ پانی میں کھڑے الیکٹرک کے پول میں بجلی دور جانے کی وجہ سے بچی کو کرنٹ لگا اور نہ ہی بچی گھر سے نکل کر محلے میں کھیلنے گئی پر ایک ننھی پری اس دنیا سے کے الیکٹرک کی وجہ سے اپنی ماں کی گود میں چل بسی۔ 10 ماہ کی بچی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث کراچی کی سخت گرمی برداشت نہ کر سکی اور ہسپتال کے دروازے پر ہی دم توڑ دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق حبس موسم اور گرمی سے وہ متاثر ہوئی چوں کہ صبح سے بجلی غائب رہی تو بے چینی اور اضطراب میں مبتلا رہی۔ بچی تھی شاید اس کی قوت مدافعت نے ساتھ نہیں دیا۔ شاید وہ اس ظلم کی عادی نہیں تھی۔ وہ تو شاید بے حسی کی بھی عادی نہیں تھی۔ اس قدر گرمی اور سلگائیں والی گرمی جس سے گھروں کی دیواریں تک تپ رہی ہوں۔ ایسے وقت حکومتی اداروں کی جانب سے صرف الرٹ جاری کردیئے جاتے ہیں کہ گرمی کی شدت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ کیا اس گرمی کی شدت سے نمٹنے کے اقدام بھی اٹھائے جاتے ہیں؟ کیا یہ جرم نہیں؟ ہنستے کھیلتے بچی کا چلا جانا کیا یہ دکھ نہیں دیتا؟افسوس اس بات کا ہے کہ ہم عوام ہر حال میں کے الیکٹرک کے جائز نا جائز بلوں کو بھرتے ہیں پھر بھی ہمیں اس تپتی گرمی میں کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا رہتا ہے۔

آئے دن الیکٹرک کے والٹیج کے سبب تو کبھی لائٹ، پنکھا، فریج تو کبھی ٹی وی کے خراب ہوجانا اور اس کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ ہم کس سے سوال کریں۔ ہم کس سے ان اداروں کی شکایت کریں خو ناحق ہم عوام کی جان و مال کی دشمن ہیں۔ کیا یہ ہی جمہوریت ہے جہاں ہماری کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔ کیا آئے دن بجلی کے تاروں اور کھمبوں سے بچے، بوڑھے، جوان کرنٹ لگنے سے مرتے ہیں کیا کبھی کسی نے کوئی ایکشن لیا۔ کیا کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حق کے تحت ہمارے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ نہیں کرتے؟ کیا قانون نے ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ یہ جب چاہے جیسے چاہیں بر بریت کا مظاہرہ کرتے رہیں؟ عوام کرے تو کیا کرے؟ احتجاج کرے تو کس کے سامنے؟ کیا اب بھی ہم الیکٹرک بلوں کا پھاڑ دیں تو ہم کو بجلی ملے گی؟ کیا ہمارے بچوں کی قیمتی جانیں واپس آجائیں گی؟ کیا اب کبھی کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی؟ نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ چوں کہ ہماری آوازیں مٹی تلے دب جائے گی اس لیے آواز اٹھانے کو اور حق مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں کہہ کر ہم اپنی بچی مٹی تلے داب آئے ہیں۔

یہی کہہ کر کہ وہ اتنی ہی زندگی لے کر آئی تھی۔ واہ کیا راہ فرار ہم نے ڈھونڈا ہے کہ انسانوں کے معاملات بھی تقدیر اور تقدیر بنانے والے کے ہاتھ میں دے دیا۔ افسوس ہوتا ہے۔ بہت افسوس کہ ہم کس طرف نکل پڑے۔ ہم کس قدر بے حس اور بے مروت ہوچکے۔ ہماری احساسات و جذبات سب مردار ہوچکے۔ ہم سب تماشبین کے صف میں کھڑے ہوکر بے خوف اور بے خطر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم ابھی دوسروں کی بے بسی اور دکھ کو موبائل فونز میں ویڈیو بنانے اور اس کو وائرل کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم نے یہ تو جان لیا کہ کوئی نیکی کی بات سنو تو فورا اس کو وائرل کرو۔ اس کو دوسروں تک پہنچاو کیونکہ یہ صدقہ جاریہ ہے۔ پر ہم بھول گئے کہ نیکی کی بات کو پھیلانے سے پیشتر نیکی پر عمل کرنا فرض ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم اپنا فرض بھول گئے ہیں۔

فرائض کی ادائیگی کے لیے ہم نے فلسفیانہ عذر اور دلائل تلاش کر لیے ہیں۔ ہم ہر نیک عمل سے فرار چاہتے ہیں۔ ہم حقوق کی بات نہیں کرتے۔ ہم صرف اور صرف اپنے مفاد کی بات کرتے ہیں۔ ہم نے زبان سی رکھی ہے اور آنکھوں کواندھا کرلیا ہے۔ ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ ہم موت کا شمار کرتے ہیں لیکن انسانی موت کی جو تکلیف اور غم ہے اس کو محسوس نہیں کرتے۔ کاش ہمارے اداروں کو بھی احساس ہوجائے کہ اپنے پیارے کے مرنے کا غم کیا ہوتا ہے تو شاید وہ عوام کی تکلیفوں کا سبب نہیں مداوا بنیں۔ آج الیکٹرک سپلائی نہ ہونے کے باعث ایک چھوٹی سی معصوم سی بچی نے جان دی ہے۔ ایسے ہی بے شمار بجے تڑپتے ہوں گے۔
Loadshedding

بیمار افراد جو سانس اور فشار خون میں مبتلا ہیں لوڈشیڈنگ کے باعث کس اذیت کا شکار رہتے ہوں اس کا ہمیں ادراک نہیں۔ اب تو فکر اس بات کی ہے کہ ابھی کراچی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی ہے۔ اللہ جانے ان کے الیکٹرک کی وجہ سے کس کس معصوم نے جان سے جانا ہے، کس کس کی گود اجڑنی ہے کیا معلوم ہے؟ کون پوچھنے والا ہے؟ کیا یہاں کوئی قانون نافذ ہے؟ نہیں ہے کوئی قانون کوئی آرڈیننس۔ مرنے والے کا تماشا ہوگا۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تنقید کا شور ہوگا۔ لواحقین کے ماتم کو چسکے لے لے کر آگے بڑھایا جائے۔ پھر پریس کانفرنس ہوگی۔ پھر کمیٹی بنے گی۔ ہر موت کو ایک حادثے کا نام دے دیا جائے گا اور فائل بند کردی جائے گی۔ نہ کوئی مدعی ہوگا، نہ کوئی ملزم اور نہ کوئی مجرم۔

تحریر : عائشہ یاسین

Share this:
Prank
Previous Post پرینکس نامی عفریت کی حوصلہ شکنی وقت کا تقاضا
Next Post وزیراعظم کا امریکا کو اڈے دینے سے صاف انکار
Imran Khan

Related Posts

دبئی – ابھی تازہ ترین صورتحال

March 15, 2026
Pakistan PM Directs Export Plan for Surplus Food to Gulf States

وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو زائد خوراک کی برآمدات کا جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کردی

March 15, 2026
Pakistan Announces Eid ul Fitr 2026 Holidays on March 20-21

حکومت نے عید الفطر 2026 کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا

March 15, 2026
Pakistan, Saudi Arabia Lead Diplomatic Push to Avert Wider Muslim Conflict

پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر تصادم روکنے پر اتفاق کر لیا

March 15, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.