لندن میں بدھ کے روز یوم استحصال کشمیر کے موقع پر بھارتی سفارتخانے کے سامنے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد نے کشمیری اور پاکستانی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور بھارتی قبضے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرے میں ہر طبقے کی شرکت
اس احتجاج میں بزرگوں، خواتین، بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے لوگ بھی پوری قوت کے ساتھ اس مظاہرے میں شامل ہوئے، جس سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا ایک پُرتاثر منظر پیش ہوا۔
بھارتی جارحیت کے خلاف نعرے اور پیغام
مظاہرین نے “کشمیر بنے گا پاکستان” اور “بھارتی جارحیت مردہ باد” جیسے نعرے لگائے اور آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی تھی۔
عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ
احتجاج کے شرکاء نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ مظاہرین نے کہا کہ بھارتی سفارتخانہ پاکستان اور کشمیر مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، جبکہ کشمیری اور پاکستانی ایک جان اور دو قالب ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔یوم استحصال کی اہمیت
یوم استحصال کشمیر ہر سال پانچ اگست کو اس تاریخی ناانصافی کی یاد میں منایا جاتا ہے جب بھارت نے مقبوضہ وادی کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ لندن کا یہ احتجاج دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز کو پہنچانے کی ایک اہم کڑی ہے۔
- لندن میں بھارتی سفارتخانے کے باہر زبردست مظاہرہ
- مظاہرین کا “کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے
- بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت
- عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
- کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ
