نیویارک (دنیا نیوز): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام اقسام بشمول ریاستی دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
عاصم افتخار نے ‘دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات’ کے موضوع پر سلامتی کونسل کے مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک سیاہ دن ہے، جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اقدامات کو سات سال مکمل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ناانصافی، ذلت اور سلامتی کونسل کی ضمانت شدہ حق خودارادیت سے محروم کشمیری عوام کو ایک نئی لہرِ جبر کا نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور داعش خراسان افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال کی ذمہ دار ہے اور دہشت گردوں کو مالیاتی اور عسکری وسائل تک رسائی سے روکنا ناگزیر ہے۔
عاصم افتخار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں تک رسائی کو بھی بلاک کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ انسداد دہشت گردی کو غیر ملکی قبضے کے خلاف جائز جدوجہد کو دبانے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ریاستی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا موقف
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر اور دیگر غیر ملکی قبضے والے علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انسداد دہشت گردی کی آڑ میں عوام کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جائز جدوجہد اور ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کو کچلا نہ جائے۔
قبل ازیں عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت نے سات سال قبل 90,000 فوجیوں کے بل بوتے پر مقبوضہ کشمیر کا الحاق کر کے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عملی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی دہرایا۔
