صدر میکرون کا اعلان
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہائی اسکولوں میں موبائل فونز کی ممانعت کو وسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایبرا گروپ کے قارئین کے ساتھ ووزجز میں ہونے والے ایک خصوصی نشست کے دوران کہی۔
اگلے تعلیمی سال سے نافذ ہوگی پابندی
صدر میکرون کے مطابق، “ہم نے مڈل اسکولوں سے موبائل فونز کو نکال دیا ہے۔ ہم اگلے تعلیمی سال سے شاید ہائی اسکولوں میں بھی یہ پابندی لاگو کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں والدین کے ساتھ بات چیت کی جارہی ہے اور ایک وسیع قومی آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔
سوشل میڈیا اور نفسیاتی مسائل کا تعلق
صدر نے زور دے کر کہا کہ نوجوانوں کے ذہنی صحت کے مسائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کے درمیان “واضح تعلق” موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی نوجوان نسل کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔
جھوٹی معلومات کے خلاف قانونی کارروائی
میکرون نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات یا کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنے والی خبروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی قانون میں اس حوالے سے جلد از جلد ضروری ترامیم کی جائیں گی۔
موجودہ صورتحال
گزشتہ تعلیمی سال سے فرانس کے تمام مڈل اسکولوں میں “ڈیجیٹل بریک” نافذ ہے، جس کے تحت اسکولوں میں موبائل فونز کی مکمل پابندی ہے۔ اب یہ پابندی ہائی اسکولوں تک بڑھانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

