سابق وزیراعظم کو طلبا احتجاج میں ملوث ہونے پر سزائے موت
نئی دہلی: بھارت نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حاسینہ کی حوالگی کی درخواست پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ یہ درخواست قانونی اور عدالتی عمل کے تحت جائزہ لینے کے مراحل میں ہے۔
درخواست کی نوعیت
بنگلہ دیشی حکومت نے پہلی بار دسمبر 2024 میں یہ درخواست پیش کی تھی، جبکہ اس ماہ اسے دہرایا گیا ہے۔ اس کی وجہ حاسینہ کو طلبا احتجاج کے دوران ہلاکتوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت کا فیصلہ ہے۔ 78 سالہ سابق وزیراعظم اگست 2024 سے بھارت میں مقیم ہیں۔
بین الاقوامی معاہدے کا حوالہ
ڈھاکہ کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود двуطرفہ معاہدے کے تحت بھارت پر سابق رہنما کی حوالگی کی “قانونی ذمہ داری” عائد ہوتی ہے۔ حاسینہ کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات میں مقدمے کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے۔
سیاسی صورت حال
- حاسینہ کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش سیاسی بحران کا شکار ہے
- فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات کی مہم تشدد کا شکار رہی
- اقوام متحدہ کے مطابق حاسینہ کے دور میں 1,400 افراد ہلاک ہوئے
تعلقات میں کشیدگی
حاسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ تاہم بنگلہ دیش کے قومی سلامتی مشیر خلیل الرحمٰن کی بھارت آمد اور ان کی بھارتی ہم منصب اجیت دوول سے ملاقات کے بعد حالات میں قدرے بہتری آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق رحمان نے دوول کو بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت بھی دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفاری تعلقات میں نئی گرمجوشی کی امید پیدا ہوئی ہے۔

