وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے پاکستان کی گزشتہ دو سالوں میں ہونے والی معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے عالمی تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی چیلنجز
وزیر اعظم نے بتایا کہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 114.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھ گیا، جس سے توانائی کی منڈیاں متاثر ہوئیں اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل تنازع سے پہلے 300 ملین ڈالر تھا جو اب بڑھ کر 800 ملین ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی قیمتیں معیشت کو مستحکم کرنے کی جاری کوششوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
حکومتی اقدامات اور صوبائی مشاورت
وزیر اعظم نے کہا کہ صورتحال پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھنے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نقل و حمل اور دیگر شعبوں میں سبسڈی جاری رکھنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور دن رات کام جاری رکھنا ہوگا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے 3.5 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ادا کیا ہے اور معاشی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
امن کی کوششیں اور سفارتی پیش رفت
وزیر اعظم نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات 11 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوئے اور 21 گھنٹے جاری رہے، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی جو اب بھی برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے پاکستان آئے۔ ان کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے روس جانے سے پہلے ان سے ٹیلی فون پر بات ہوئی، جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عمان میں ان کی تمام ملاقاتیں نیک نیتی سے ہوئی ہیں اور اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد وہ جلد ہی مثبت جواب دیں گے۔
وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ تنازع جلد ختم ہوگا اور خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا۔ انہوں نے امن عمل میں معاونت پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں کو بھی سراہا۔
