کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے سینئر پولیس افسران کو طلب کرنے کے بجائے ان سے تحریری جوابات طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن نے گزشتہ روز ہونے والی سماعت کی کارروائی کی تفصیلات پر مشتمل حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
سابق تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ
حکم نامے کے مطابق کمیشن نے کارروائی کے دوران سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کا بیان ریکارڈ کیا اور میر رضا کے کاروباری ساتھی احمد کا موقف بھی سنا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ احمد نے میر رضا کے اہل خانہ سے ملاقات اور بات چیت کے لیے وقت طلب کیا۔ اہل خانہ سے بات چیت کے بعد وہ حلف نامے کے ذریعے کوئی اضافی بیان جمع کر سکتے ہیں۔ حلف نامے کے ذریعے جمع کرایا گیا بیان بھی عوام کے لیے دستیاب کرایا جائے گا۔
تھانوں کی روزنامچے بند لفافوں میں موصول
حکم نامے کے مطابق تھانہ فیروزآباد اور تھانہ گلستانِ جوہر کی روزنامچے کمیشن کو بند حالت میں موصول ہوئیں۔ تاہم روزنامچوں سے متعلق گواہوں کے بیانات افسوسناک طور پر پہلے ہی ریکارڈ ہو چکے تھے۔
کمیشن نے روزنامچے اسی حالت میں سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو واپس کر دیے۔ کمیشن نے ایک نجی بینک کے سی ای او اور ڈویژنل سربراہ کی کمیشن کے ساتھ تعاون پر تعریف بھی کی۔
