کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے میر رضا علی کے قتل کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن کی مدت ختم ہو گئی ہے، تاہم سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کمیشن کی توسیع کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
کمیشن نے 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست کی
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور اپنی رپورٹ تیار کرنے کے لیے 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست کی تھی۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس درخواست پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، جس کے باعث کمیشن کے آئندہ اجلاس پر اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کمیشن کی تشکیل اور کارروائی کا پس منظر
جوڈیشل کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن 24 اگست کو جاری کیا گیا تھا، جبکہ کمیشن نے 27 اگست سے اپنی کارروائی کا آغاز کیا۔ سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی کارروائی مکمل کرے۔
آج دو گواہوں کی طلبی، بیانات کا انحصار نوٹیفکیشن پر
ذرائع کے مطابق کمیشن نے آج مزید کارروائی کے لیے دو گواہوں کو طلب کیا ہے۔ تاہم، اگر کمیشن کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو ان گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
خاندان کی سینئر پولیس افسران سے وضاحت کی طلب
دوسری جانب میر رضا کے خاندان نے بھی کیس سے متعلق متعدد سوالات پر سینئر پولیس افسران سے جواب طلب کیا ہے۔ خاندان کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے دوران اٹھائے گئے تحفظات پر وضاحت مانگی گئی ہے، جس سے کیس کی شفاف تفتیش کے حوالے سے سوالات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
توسیع میں تاخیر کے ممکنہ اثرات
- کمیشن کی مدت ختم ہونے کے باعث گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل معطل ہو سکتا ہے۔
- رپورٹ کی تیاری میں تاخیر سے کیس کی تفتیش مزید طویل ہو سکتی ہے۔
- خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب ملنے میں بھی تاخیر متوقع ہے۔
- ہوم ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے تک کمیشن کی مزید کارروائی غیر یقینی کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا علی کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام ایک اہم سنگ میل تھا، تاہم مدت میں توسیع کے معاملے پر تاخیر سے کیس کی بروقت سماعت اور شفاف نتائج کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
