مونٹمینی (ویل ڈواز): بدھ کے روز جب درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تو رہائشی کمپلیکس ‘لیز لیوریئرز’ کے مکینوں کے لیے یہ گرمی کسی اشنکٹبندیی عذاب سے کم نہ تھی۔ کورین نامی ایک رہائشی نے بھرے گلے سے بتایا، “مجھے گرمی پسند ہے، لیکن یہ تو سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہی۔” عمارت کے سائے میں کھڑی خواتین کے ایک چھوٹے سے گروہ کی یہی کہانی تھی۔
اپارٹمنٹ کی مالک ایوا کی حالت اور بھی ابتر تھی۔ انہوں نے بتایا، “باہر 37 ڈگری ہے، لیکن میرے گھر کے اندر تو 40 ڈگری ہوگا، یہ بالکل اشنکٹبندیی موسم جیسا ہے!” یہ صورتحال محض موسم کی شدت نہیں بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے وعدے کا نتیجہ ہے۔
چار سال پہلے کا منصوبہ جو دھرا رہ گیا
چار سال قبل کسی کو بھی گمان نہ تھا کہ حالات اس حد تک بگڑ جائیں گے۔ اس کی وجہ ایک بڑا منصوبہ تھا جس کے تحت توانائی کی بچت کے لیے وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش کے کام ہونے تھے۔ اس منصوبے میں عمارتوں کی بیرونی دیواروں کی مرمت، چھت کی آبی بندش اور وینٹیلیشن کے نظام کی تنصیب جیسے اہم کام شامل تھے، جن کا مقصد سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں ٹھنڈک کو محفوظ رکھنا تھا۔
تاہم، ان کاموں کی غیر متوقع منسوخی نے رہائشیوں کو شدید موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ حرارتی موصلیت کے مسائل، جو کبھی حل ہونے والے تھے، اب گرمیوں میں جان لیوا حدت اور سردیوں میں کپکپاتی ٹھنڈ کا سبب بن رہے ہیں۔
مستقبل کی فکر اور فوری مطالبات
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ شدید گرمی کی لہر کے دوران گھروں میں رہنا محال ہو جاتا ہے، جس سے بزرگوں اور بچوں کی صحت پر سنگین خطرات منڈلا رہے ہیں۔ مقامی افراد نے ذمہ دار حکام سے فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ آنے والی گرمیوں میں انہیں اس جان لیوا صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
