واشنگٹن ڈی سی: امریکہ اور پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے چوتھے ڈائیلاگ کے دوران دہشت گردی کے خلاف اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے علاقائی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
واشنگٹن میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں امریکی وفد کی قیادت انسداد دہشت گردی کے کوآرڈینیٹر سفیر گریگوری لوجرفو جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت دفتر خارجہ کے سپیشل سیکرٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔ مذاکرات کا مرکزی نقطہ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال رہا۔
دہشت گرد نیٹ ورکس کو ناکام بنانے پر اتفاق
دونوں فریقین نے موجودہ خطرات کے ماحول کا گہرائی سے جائزہ لیا اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو بے نقاب اور ناکام بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا۔ اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ سرحد پار دراندازی اور مالی معاونت کے راستوں کو مؤثر طریقے سے بند کیا جائے۔
مخصوص عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی
مشترکہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ دونوں ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی تنظیموں کے خلاف متحد ہیں۔ ان تنظیموں میں شامل ہیں:
- داعش خراسان (ISIS-K)
- القاعدہ (AQ)
- تحریک طالبان پاکستان (TTP)
- بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور اس کے ذیلی دھڑے
مذاکرات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی کا یہ تعاون دونوں قوموں کو محفوظ رکھنے اور پائیدار علاقائی امن، خوشحالی اور استحکام کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ دونوں ممالک دو طرفہ اور کثیر الجہتی فورمز پر بھی اپنی شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
