پیرس: فرانس کے شمالی علاقے موسیل میں اتوار کی صبح صنعتی کچرے کے ایک گودام میں لگنے والی خوفناک آگ پر قابو پانے کے بعد انتظامیہ نے تقریباً 30 ہزار شہریوں کے گھروں میں محصور رہنے کے احکامات واپس لے لیے۔ حکام کے مطابق زہریلے دھوئیں کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
یہ آتشزدگی اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے دس بجے گینڈرینج کے صنعتی زون میں واقع سیف (Suez Alternative Fuels & Energies) کمپنی کے گودام میں شروع ہوئی۔ یہ گودام یورپی معیارات کے تحت ‘سیویسو لو تھریشولڈ’ یعنی کم خطرے والے زمرے میں آتا ہے اور اس کی عمارت آرسلر متل کی ملکیت ہے۔
کالے دھوئیں کا خوفناک بادل اور شہریوں کا خوف
آگ لگنے کے بعد 800 مربع میٹر کے اس گودام سے کالے دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل اٹھا جو میٹز شہر تک تقریباً 15 کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔ مقامی میونسپل کونسلر امینڈائن ویکیو نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ “امی نوول میں سینما سے باہر نکلتے ہی دھوئیں کی شدید بو نے ہمارے نتھنے جھلسا دیے۔ یہ جلی ہوئی چیز کی بو نہیں تھی بلکہ بہت خوفناک تھی، اور اس سے فوراً میرے سر میں درد شروع ہو گیا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی 8 سالہ بیٹی بہت خوفزدہ ہو گئی تھی اور انہوں نے اسے اپنا ٹیڈی بیئر ناک پر رکھنے کو کہا۔
انتظامیہ کا فوری ردعمل اور حفاظتی اقدامات
خطرے کے پیش نظر موسیل کی پریفیکچر نے گینڈرینج، امی نوول، کلوانج، ویتری-سور-اورن اور رومبا کی پانچ بلدیات کے شہریوں کے لیے ‘احتیاطی تدبیر’ کے طور پر گھروں میں محصور رہنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور آگ کی جگہ کے قریب ہرگز نہ جائیں۔
مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھلتے ہی پریفیکچر نے ایک بیان میں کہا: “دھوئیں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے پیمائشیں کی گئیں۔ ان تجزیوں کے نتائج نے متعلقہ بلدیات میں زہریلے پن اور آلودگی کے خطرے کو ختم کر دیا ہے۔” اس کے بعد موبائل فون پر پیغامات کے ذریعے شہریوں کو مطلع کیا گیا کہ گھروں میں محصور رہنے کا حکم ختم کر دیا گیا ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر اپنے گھروں سے باہر نکل سکتے ہں۔
فائر فائٹرز کی بڑی کارروائی اور معمولی زخمی
موسیل کے سینٹر آپریشنل ڈی انسینڈی ایٹ ڈی سیکورس (کوڈس) کی ترجمان جیرالڈائن شیمبوڈیو کے مطابق “800 مربع میٹر کے صنعتی کچرے کے گودام میں عام آگ لگی تھی جس کی ساخت منہدم ہو گئی۔” آگ بجھانے کے لیے تقریباً 135 پیشہ ور اور رضاکار فائر فائٹرز کو 40 گاڑیوں کے ساتھ متحرک کیا گیا جو بیس کے قریب مختلف مراکز سے آئے تھے۔
اس حادثے میں ایک فائر فائٹر اور ایک ملازم معمولی زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ ایک اور فائر فائٹر کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی۔
شام تک صورتحال پر قابو پا لیا گیا
شام ڈھلنے تک کالے دھوئیں کا بادل تو غائب ہو گیا تھا لیکن ہلکی سی تیز بو اب بھی فضا میں موجود تھی۔ موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق آگ سے تقریباً مکمل طور پر تباہ ہونے والی صنعتی عمارت کی کوئی خاص باقیات نہیں بچی تھیں اور فائر فائٹرز اس پر پانی ڈالنے کا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کیمیائی مصنوعات کی موجودگی کے باوجود اب عوام کے لیے کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
