میونخ، جرمنی میں جمعرات کی صبح ایک گاڑی نے ہجوم کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد زخمی ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کے ترجمان کے مطابق، ان میں سے کچھ کی حالت نازک ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ زخمیوں میں کم از کم ایک بچہ بھی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بویریا کی حکام نے پریس کانفرنس کے دوران اس واقعے کو “ممکنہ حملہ” قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، گاڑی کا ڈرائیور 24 سالہ افغان پناہ گزین ہے، جو ہجوم کے پیچھے سے آکر ان پر چڑھ دوڑا۔ گاڑی، ایک منی کوپر، نے جرمن عوامی سیکٹر کے سب سے بڑے یونین، ویردی، کے مظاہرین کے گروپ کو نشانہ بنایا جو تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
فوری طور پر پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی۔ میونخ کے میئر ڈائیٹر ریٹر نے میڈیا کو بتایا، “پولیس چیف نے مجھے مطلع کیا ہے کہ گاڑی نے لوگوں کے گروپ کو نشانہ بنایا، جس میں بدقسمتی سے کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ میں گہرے صدمے میں ہوں اور میری ہمدردیاں زخمیوں کے ساتھ ہیں۔”
یہ واقعہ ہوٹل بایریشہر ہوف کے قریب پیش آیا، جہاں جمعہ سے میونخ کی سلامتی کانفرنس شروع ہونے والی ہے۔ اس کانفرنس میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کریں گے۔
فرانس کے قونصل خانہ نے میونخ میں اپنے شہریوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جہاں اب کئی ہیلی کاپٹرز گشت کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد جرمنی میں جلد ہونے والے انتخابات اور حالیہ حملوں نے عوامی جذبات کو مزید مشتعل کر دیا ہے۔ حکام نے عوام کو محتاط رہنے اور مقامی پولیس کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
