اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف زیر التوا درخواستوں کو فُل کورٹ کے سامنے پیش کرنے کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کی سو موٹو اختیارات ختم کر کے چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت کار تین سال مقرر کی گئی ہے جبکہ ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز میں سے اگلے چیف جسٹس کے نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ افریدی نے 2023 کے پراسیس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم کمیٹی کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فُل کورٹ کے سامنے پیش نہیں کیا تھا۔
میڈیا سے بات چیت میں مصطفی کھوکھر نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس کے فیصلے کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “کمیٹی کا انتظامی فیصلہ قانون کے مطابق ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری درخواست میں یہی موقف پیش کیا گیا ہے کہ کمیٹی کے فیصلے کا اپنا وزن ہے جبکہ چیف جسٹس کی غیر رسمی مشاورت کا کوئی قانونی جواز نہیں۔”
درخواست کے مطابق، کھوکھر نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پراسیس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی شق 2 کے تحت قائم کمیٹی کے فیصلے کو قابل عمل قرار دے جس میں 26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کو فُل کورٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
انہوں نے قانونی سکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا کہ وہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق فوری طور پر زیر التوا درخواستوں کی سماعت کا انتظام کریں۔
درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ کمیٹی کے فیصلے کو نظر انداز کرنا انتظامی بددیانتی کے مترادف ہے اور عدالت عظمیٰ作为一个 ادارہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ کمیٹی کے قانونی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنا درخواست دہندگان کے آئینی حق سے انکار ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2024 سے ہی سپریم کورٹ میں 26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ترمیم آئین کی بنیادی خصوصیات کو ختم کرتی ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
