پہاڑوں کی ملکہ: نائلہ کیانی کا معرکہ سر کرنے کا سفر

نائلہ کیانی، جو دنیا کی 8000 میٹر سے بلند چودہ پہاڑی چوٹیاں سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بننے کے قریب ہیں، نے اپنے سفر کا آغاز سات سال پہلے ایک شادی کی تصویری شوٹ سے کیا تھا۔

دو ہفتے بعد جب نائلہ کیانی نے دنیا کی تیسری سب سے اونچی چوٹی، ماؤنٹ کانچنجنگا، کو سر کیا، تو وہ دبئی میں تقریباً سمندر کی سطح پر واپس آ کر اپنے جسم کو دوبارہ متوازن کر رہی تھیں۔ فلک بوس چوٹیوں کے ‘ڈیتھ زون’ سے دبئی کی ہوا میں اچانک تبدیلی نے ان کے دماغ کو تھکاوٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا، “آج کل میں اکثر خاموش ہو جاتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیسے دماغ کو پکڑنے کی کوشش ہو رہی ہو، لیکن وہ نہیں کر پاتا۔”

دبئی میں مقیم ایرو اسپیس انجینئر، بینک کی ایسوسی ایٹ نائب صدر، ایک ٹیک سٹارٹ اپ کی شریک بانی، شوقیہ باکسر، اور دو بچوں کی ماں، نائلہ کیانی نے اپنی کامیابیوں کے بل بوتے پر ستارہ امتیاز بھی حاصل کیا ہے۔

کانچنجنگا ان کے لئے ایک منفرد چیلنج ثابت ہوا۔ نائلہ نے بتایا کہ اس مہم کے دوران ان کے پاس بمشکل کسی قسم کی رابطہ کاری تھی، نہ کوئی سیٹلائٹ فون۔ ان کی تشویش اس وقت بڑھ گئی جب انہیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کے آغاز کی خبر ملی۔

نائلہ کیانی کی مہم جوئی کا آغاز 2021 میں ہوا جب انہوں نے گیشربرم II کو سر کیا۔ ایک سال بعد، انہوں نے K2 کی چوٹی پر قدم رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے گیشربرم I کو سر کیا، جو ان کے لئے ایک مشکل ترین چڑھائی تھی۔

2023 میں انہوں نے اناپورنا I، ماؤنٹ ایورسٹ، لوہتسے، نانگا پربت، براڈ پیک، مناسلو، اور چو اویو کو سر کیا۔ 2025 میں انہوں نے کانچنجنگا کو سر کر کے اپنی مجموعی تعداد 12 تک پہنچا دی۔

دنیا بھر میں صرف 16 خواتین نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ وہ شہرت کے لئے نہیں چڑھتی، بلکہ یہ دکھانے کے لئے چڑھتی ہیں کہ ایک پاکستانی خاتون دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ ان کے لئے یہ سفر ان کی شادی کی تقریبات کے دوران شروع ہوا تھا جب انہوں نے کنکورڈیا میں اپنی شادی کی تصاویر کھنچوائیں تھیں۔

نائلہ کیانی کا یہ سفر نہ صرف جسمانی بلکہ مالی لحاظ سے بھی ایک چیلنج رہا ہے۔ ان کی مہمات کی مالی اعانت بہت مہنگی ہے اور ان میں سے کئی خود فراہم کی گئی ہیں، جبکہ دیگر کو بارڈ فاؤنڈیشن نے سپانسر کیا ہے۔

پاکستان میں ماؤنٹینئرنگ کے لئے سپورٹ سروسز کی کمی کو نائلہ نے کھل کر بیان کیا۔ پاکستانی پورٹرز میں تربیت کی کمی ہے، جبکہ نیپالی شرپس کے مقابلے میں ان کی اجرت بھی کم ہے۔ پاکستان کی ماؤنٹینئرنگ کا نظام زیادہ تر فوج سے منسلک ہے، جس میں ہیلپیکٹر سپورٹ اور ریسکیو آپریشنز شامل ہیں۔

نائلہ کیانی کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ عزم اور محنت سے کوئی بھی ہدف ناقابل حصول نہیں ہے۔ وہ اگلے سال شیشاپنگما اور دھولاگیری I کو سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جو ان کے چودہ 8000 میٹر بلند چوٹیوں کی فہرست کو مکمل کرے گا۔