واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے پہلی ملاقات کے دوران پاکستان کے عالمی اور علاقائی امن میں کردار کو سراہا۔ یہ ملاقات جمعہ کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی۔
نائب وزیر اعظم جمعرات کی شب واشنگٹن پہنچے، جہاں وہ اپنے آٹھ روزہ دورہ امریکہ کے دوسرے مرحلے میں شریک ہیں۔ اس سے قبل وہ پیر کو نیویارک پہنچے تھے تاکہ پاکستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران منعقد ہونے والے اہم تقریبات میں شرکت کر سکیں۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈار اور روبیو نے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں ممکنہ تعاون پر تفصیلی بات چیت کی۔ روبیو نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا اور عالمی و علاقائی امن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔
ڈار نے عالمی امن کو فروغ دینے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قیادت کی کوششوں کی تعریف کی اور حالیہ پاکستان-بھارت کشیدگی کے حوالے سے ان کے کردار کو “قابل تعریف” قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈار نے امریکہ کو پاکستانی تجارت کے فروغ کے لیے ایک پرکشش مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی امریکہ میں دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ شراکت داری کو طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط کرنے کی یقین دہانی کرائی، خاص طور پر اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر توجہ دی۔
ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے اہم علاقائی اور عالمی ترقی کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے امریکی تعمیری کردار کی تعریف کی خاص طور پر حالیہ پاکستان-بھارت جنگ بندی کو سہل بنانے میں۔
وزیر خارجہ ڈار واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک “دی اٹلانٹک کونسل” میں بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر اور پاک-امریکہ تعلقات کے مستقبل پر بات کریں گے۔
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے ہوئے ہے۔ پاکستان نے جنوری 2025 سے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی موجودہ دو سالہ مدت کا آغاز کیا اور 2026 کے اختتام تک خدمات انجام دے گا۔

