واقعے کی تفصیلات
12 جولائی کی شام نوازی-لو-گراں کے پاوے نیف علاقے میں ایک رہائشی عمارت کے ہال میں کیا ہوا؟ ایک رہائشی کی بنائی گئی ویڈیو میں ہیلمٹ پہنے پولیس اہلکاروں کو سرخ ٹی شرٹ پہنے ایک شخص سے جھگڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران سفید قمیض پہنے ایک دوسرا شخص قریب آتا ہے، جسے پولیس فورسز نے بے دردی سے زمین پر پٹخ دیا۔ شوقیہ ویڈیو بنانے والا پورے منظر کے دوران چیخ کر کہتا ہے، “اوہ میرے خدا، یہ پولیس کی زیادتی ہے!”
متاثرہ نوجوان کا مؤقف
سفید قمیض والے متاثرہ شخص، 18 سالہ آزاریا نے اپنے وکیل محترم حسنی معاطی کے ذریعے پولیس پر غیر متناسب تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی ٹانگ کو موٹر سائیکل کے ایگزاسٹ کے قریب لا کر جان بوجھ کر جلایا، جس سے ان کے دائیں پنڈلی پر سیکنڈ ڈگری کا جلنے کا زخم آیا۔
قانونی کارروائی
آزاریا نے 16 جولائی کو بوبیگنی کی پراسیکیوٹر فینی بساک کے پاس شکایت درج کروائی ہے، جو پولیس فورسز سے متعلق تنازعات کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ یہ معاملہ اب تحقیقات کے دائرے میں ہے۔
اہم نکات
- واقعہ 12 جولائی کی شام نوازی-لو-گراں کے پاوے نیف علاقے میں پیش آیا۔
- متاثرہ نوجوان آزاریا کی عمر 18 سال ہے اور اس نے پولیس پر تشدد کا الزام لگایا ہے۔
- نوجوان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اس کی ٹانگ موٹر سائیکل کے سائلنسر سے جلائی، جس سے گہرا زخم آیا۔
- واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں پولیس کی کارروائی کو دکھایا گیا ہے۔
- معاملے کی تحقیقات بوبیگنی کے پراسیکیوٹر دفتر میں جاری ہیں۔
