اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ انہیں ریاستی اداروں کے خلاف متنازعہ بیان بازی کے الزام میں پیر کو تفتیشی ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹس کے مطابق، نورین نیازی کو 20 جولائی کو اسلام آباد میں واقع این سی سی آئی اے کے دفتر میں ذاتی حیثیت میں حاضر ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں سے متعلق جھوٹے اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں طلب کیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے نے نورین نیازی سے کہا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر پیش ہو کر انکوائری افسران کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ حکام کے مطابق، سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے اس مواد کی نوعیت کو ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے زمرے میں دیکھا جا رہا ہے۔
یوٹیوب انٹرویو میں بیان بازی نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا
نورین نیازی کے ایک یوٹیوب انٹرویو میں دیے گئے متنازعہ بیانات نے سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے اور تجزیہ کاروں کی جانب سے ان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سیاسی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات پاکستان کے قومی بیانیے کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات بھارتی میڈیا اور پاکستان مخالف عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے کا شدید خطرہ رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے اس معاملے کو قومی سلامتی کی بحث سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع پر ذمہ دارانہ زبان کا استعمال ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں ضروری ہے۔
