اسلام آباد میں چند خاموش دنوں کے بعد، پاکستان انڈر-23 فٹبال ٹیم کے تربیتی کیمپ کی نگرانی کرنے والے نولبرٹو سولانو کا لاہور میں شاندار استقبال ہوا۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے اس موقع پر ایک بڑی تقریب منعقد کی تاکہ ان کی آمد کا جشن منایا جا سکے۔
پرُویتھو کے سابق فٹبالر سولانو کو تقریب میں شاہانہ پذیرائی دی گئی، جہاں شرکاء نے انہیں ہار پہنا کر اور تصاویر کھنچوا کر ان کا استقبال کیا۔ سابق نیوکاسل یونائیٹیڈ کے لیجنڈ کو اس مرحلے پر دیکھا گیا جہاں ان کی “سیڑھابندی” کی گئی، یعنی انہیں روایتی انداز میں ایک خالصتا سنہرے رنگ کی ٹوپی پہنائی گئی۔
سولانو، جو پاکستان کے سینئر اور انڈر-23 فٹبال ٹیم کے نئے کوچ ہیں، نے برملا یہ کہا کہ انہیں یہ موقع درست وقت پر ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فٹبال کو اوپر اٹھانے کے لیے یہ ایک طویل جدوجہد ہوگی جس کے لیے صبر و تحمل ضروری ہے۔
3 سے 9 ستمبر کو ہونے والے ایف سی انڈر 23 چیمپئن شپ کے کوالیفائر، سولانو کے لیے پہلا امتحان ہیں۔ پاکستان کو گروپ جی میں عراق، کمبوڈیا اور عُمان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سولانو کا یہ یقین ہے کہ “اگر ہم فائنلز تک پہنچ گئے تو یہ ایک نئی شروعات ہو سکتی ہے۔”
پاکستان فٹبال کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سولانو نے کہا کہ یہ سب ایک راہ میں تبدیلی کا سفر ہے۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ کامیابی یک لخت نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ہی ملے گی۔ پی ایف ایف کے حال میں منتخب صدر، محسن گیلانی کا بھی ذکر کرتے ہوئے سولانو نے کہا کہ “محسن فٹبال کے شخص ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ملک کا فٹبال بہتر ہو، اور اسی وجہ سے وہ یہاں آنے کے لیے پرجوش تھے کیونکہ ملک میں نوجوان ٹیلنٹ بہت ہے لیکن انہیں اوپر اٹھانے کی ضرورت ہے۔”
سابق کوچ اسٹیفن کانسٹینٹن کی چھوڑے ہوئے فٹبال کا ذکر کرتے ہوئے، سولانو نے یہ بھی کہا کہ ان کے رہنمائی میں پاکستان نے ورلڈ کپ کوالیفائرز میں پہلی کامیابی حاصل کی تھی، جو ملک کی فٹبال تاریخ کا ایک شاندار لمحہ تھا۔
سولانو نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود فٹبال ڈھانچے میں بہتری کے لیے مقامی اور بین الاقوامی فٹبالرز کے موجودہ خراب حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی کھلاڑیوں کو مزید مواقع دینے کے لیے انہیں فٹبال کے قومی دھارے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سولانو پاکستان فٹبال میں کتنی تبدیلیاں لاتے ہیں اور ان کا اثر کیا ہوتا ہے۔ پاکستان کی قومی ٹیم کے لیے ان کا ویژن اور عدم انکار کی پالیسی سولانو کی قیادت میں ایک نئی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
