جسمانی ساخت بدلنے والی خطرناک عادت
کمپیوٹر پر کام کے دوران آگے جھک کر بیٹھنا اب محض ایک عادت نہیں رہا بلکہ یہ ایک نیا اصطلاحی نام بھی اختیار کر چکا ہے: ‘آفس شریمپ’ یا ‘دفتری جھینگا’۔ یہ وہ پوسچر ہے جب کوئی شخص ڈیڈ لائن پوری کرنے یا مسلسل ٹائپنگ کرتے ہوئے اپنی ریڑھ کی ہڈی کو خم دے کر بالکل جھینگے کی طرح نظر آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ظاہری شکل محض مضحکہ خیز نہیں بلکہ جسم اور دماغ دونوں کے لیے انتہائی مضر ہے۔
پھیپھڑوں، خون کی گردش اور ہاضمے پر حملہ
کورنیل یونیورسٹی کے ارگونومکس پروفیسر ایلن ہج کے مطابق آگے جھک کر بیٹھنا جسم پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “یہ پوسچر نہ صرف پیٹھ کے پٹھوں میں غیر ضروری تناؤ پیدا کرتی ہے بلکہ پھیپھڑوں کی گنجائش کم کر دیتی ہے اور خون کی گردش کو بھی متاثر کرتی ہے۔” ارگونومکس کنسلٹنٹ کیرن لوسنگ کے مطابق یہ غیر فطری پوزیشن نہ صرف گدگدی، سن ہونے اور درد کا باعث بنتی ہے بلکہ ہاضمے کے نظام کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ پیٹ پر پڑنے والا دباؤ تیزابیت، قبض اور اپھارہ جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
جسم کے خطرے کے اشاروں کو پہچانیں
ماہرین کے مطابق جسم خود خطرے کی گھنٹی بجا دیتا ہے۔ پہلا انتباہ عام طور پر جسم میں اکڑن یا درد کی صورت میں آتا ہے۔ کلائیوں میں تکلیف، گردن یا کمر میں درد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پروفیسر ہیج کے الفاظ میں “تکلیف چوٹ کی طرف پہلا قدم ہے۔” اگر آپ کو کام کے دوران بار بار ایسی علامات محسوس ہوں تو یہ واضح اشارہ ہے کہ آپ کی بیٹھنے کی پوزیشن درست نہیں۔
دفتری جھینگا بننے سے بچنے کے آسان طریقے
- ایسی آرام دہ کرسی استعمال کریں جس کی پشت ہو اور اسے اپنے قد کے مطابق درست طریقے سے سیٹ کریں۔
- لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے اسے اونچی جگہ پر رکھنے کے لیے اسٹینڈ استعمال کریں اور علیحدہ بلیوٹوتھ کی بورڈ سے کام لیں۔
- کمپیوٹر اسکرین کی اونچائی کا خاص خیال رکھیں۔ اسکرین آپ کی آنکھوں کے برابر ہونی چاہیے تاکہ گردن نہ جھکانی پڑے۔
- فون استعمال کرتے وقت اسے آنکھوں کی سطح تک اونچا اٹھا کر دیکھیں یا کہنیوں کو کسی سپورٹ پر رکھیں۔
- کام کے دوران وقفے لیتے رہیں، کھڑے ہوں اور ہلکی پھلکی ورزش کریں۔
ماہرین کا متفقہ مشورہ ہے کہ تھوڑی سی احتیاط اور ارگونومکس کے بنیادی اصولوں پر عمل کر کے نہ صرف ‘دفتری جھینگا’ بننے سے بچا جا سکتا ہے بلکہ طویل المدتی صحت کے سنگین مسائل سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
