مارکیٹوں پر جھٹکا
ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ بحری جھڑپوں اور ہرمز کے آبنائے کی دوبارہ بندش نے پیر کے روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی۔ تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک فیوچرز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
قیمتوں میں یکدم تبدیلی
ایشیائی تجارت کے آغاز میں برینٹ کرڈ آئل کے فیوچرز میں تقریباً 7 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جو 96.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ اس کے برعکس، ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.9 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ یورو میں 0.3 فیصد کمی آئی جو 1.1735 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ ین بھی ڈالر کے مقابلے میں 0.2 فیصد کمزور ہوا۔
تناؤ کی وجوہات
ایران نے اتوار کے روز امریکہ کے ساتھ نئی امن بات چیت سے انکار کر دیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں مباحثے کے لیے اپنے نمائندے بھیج رہے ہیں اور ایران پر حملے جاری رکھیں گے اگر اس نے ان کی شرائط قبول نہ کیں۔ امریکہ نے ایک ایرانی کارگو جہاز ضبط کرنے کا بھی اعلان کیا جس نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔
ماہرین کا تجزیہ
پیپر اسٹون لندن کے سینئر ریسرچ اسٹریٹیجسٹ مائیکل براؤن کا کہنا تھا، “اگرچہ ہرمز آبنائے کی بندش اچھی خبر نہیں ہے، لیکن مارکیٹ اسے اس طرح دیکھ رہی ہے کہ دونوں فریق اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اسٹاک کی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جمعے کے جو فائدے ہوئے تھے، ان میں سے کافی حصہ واپس لیا جائے گا۔”
گذشتہ ہفتے کی صورتحال
ایران کے ہرمز آبنائے کھولنے کے اعلان کے بعد جمعے کے روز اسٹاک اور بانڈز میں تیزی آئی تھی جبکہ تیل کی قیمتیں گر گئی تھیں۔ تاہم آبنائے کی محض 12 گھنٹے بعد دوبارہ بندش نے صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آنے والی بات چیت میں شرکت نہیں کرتا تو مارکیٹ میں خطرے سے گریز کا رجحان اور بڑھ سکتا ہے۔
ڈالر اور بانڈز کی پوزیشن
محفوظ اثاثوں سے چمک کم ہونے کے بعد ڈالر میں گزشتہ ہفتے کمی دیکھی گئی تھی، لیکن پیر کو ایشیائی تجارت میں یہ 0.2 فیصد مضبوط ہوا۔ بینکوک برن کیپیٹل مارکیٹس کے مارک چینڈلر نے کہا، “خطرہ یہ ہے کہ مارکیٹ اپنے آپ سے آگے نکل رہی ہے۔”
آئندہ امکانات
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کے امکانات ہیں، خاص طور پر اگر ہرمز آبنائے کی بندش طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔
