آئی ایس پی آر کا اہم اعلان
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں ہندوستانی ایجنڈے پر چلنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشن ’رد الفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ فوج کے ترجمان، آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف مربوط کارروائیوں اور صفائی آپریشنز میں کم از کم 216 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
شہداء کا المناک سانحہ
آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ ان آپریشنز کے دوران 36 معصوم شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کے علاوہ 22 سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ فوج کے ترجمان نے شہید ہونے والے اہلکاروں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔
کارروائیوں کا پس منظر اور دائرہ کار
یہ کارروائیاں گزشتہ ہفتے کے آخر میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں فتنہ الہند (بی ایل اے) کے نام نہاد دہشت گردوں کے حملوں کے جواب میں شروع کی گئیں۔ حملہ آوروں نے 31 جنوری کو کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تُمپ، گوادر اور پسنی میں شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پنجگور اور ہرنائی کے مضافات میں کارروائیاں 29 جنوری 2026 کو شروع کی گئیں جب مصدقہ انٹیلی جنس کے ذریعے مقامی عوام کے لیے فوری خطرہ بننے والے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
آپریشن کے اہم مراحل
- پہلے مرحلے میں پنجگور اور ہرنائی کے علاقوں میں ہندوستانی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
- دوسرے مرحلے میں بلوچستان میں امن کو غیر مستحکم کرنے کی فتنہ الہند کی مایوس کن کوششوں کو سکیورٹی فورسز کے جارحانہ اور مستحکم ردعمل کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
- اس کے بعد متعدد علاقوں میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کا سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کیا جا سکے۔
بین الاقوامی ردعمل اور قومی عزم
بلوچستان میں ہونے والے ان حملوں پر امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، قطر، ترکی، ایران، متحدہ عرب امارات، فرانس، کینیڈا، یورپی یونین، او آئی سی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت متعدد ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے مذمت کی ہے۔
آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ پاکستان مسلح افواج قومی ایکشن پلان کے دائرہ کار میں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کے عزم میں ثابت قدم ہیں اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔

