اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر برآمد کنندگان پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا، “مجھے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ سے ہدایت ملی ہے کہ برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ اس پر عمل کروں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ وزیراعظم کی ہدایت ہے، اس لیے اس پر ضرور عملدرآمد ہوگا۔
برآمد کنندگان کے لیے ریلیف کی تفصیلات
محمد اورنگزیب کے مطابق، حکومت پہلے ہی 50 کروڑ روپے سے کم سالانہ آمدنی والے برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم کر چکی ہے، جبکہ 50 کروڑ سے زائد آمدنی والے کاروباروں کے لیے اسے 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا تھا۔ اب اسے یکسر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو مشرق وسطیٰ کے بحران کے معاشی اثرات کا سامنا ہے۔ وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات اگلے سال بھی جاری ریں گے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے بحران کے اثرات
وزیر خزانہ نے کہا، “بطور وزیر خزانہ، مجھے بجٹ میں کچھ گنجائش اور بفر رکھنا ہوگا، کیونکہ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی کوششیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گی، تاہم تنازع کے اثرات سے مکمل طور پر بچا نہیں جا سکتا۔
مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی جھلکیاں
یہ اعلان وزیر خزانہ کے 18,771 ارب روپے کے مالی سال 27-2026 کے بٹ پیش کرنے کے چند گھنٹے بعد آیا۔ بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا حصہ 8.054 ٹریلین روپے مارک اپ ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کے بعد دفاع کے لیے 3 ٹریلین روپے اور وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں۔
اپنی بجٹ تقریر کے دوران، اورنگزیب نے بتایا کہ اگلے مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اوسط افراط زر کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف
بجٹ میں تنخواہ دار افراد کے لیے چار سلیبز میں انکم ٹیکس میں ریلیف اور سرچارج کے خاتمے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ فنانس بل میں ٹیکس سلیبز کی تنظیم نو کے ذریعے تنخواہ دار ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں اضافی درمیانی سلیبز متعارف کرائی گئی ہیں۔
