پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، پاکستان کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان حکومت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس آپریشن میں اب تک 796 افغان طالبان اہلکار اور دہشت گرد ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان
وزیر اطلاعات اٹھار طارق نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں افغان طالبان حکومت کی 286 چوکیاں تباہ اور 44 پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے کابل حکومت کے 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپ خانے اور ڈرون بھی تباہ کر دیے ہیں۔
سرحد پار گولہ باری میں شہری ہلاکتیں
افغان طالبان کی سرحد پار گولہ باری نتیجے میں پاکستانیہریوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، باجوڑ کے علاقے کاٹ کوٹ میں واقع ملک شاہین گاؤں پر افغان طالبان کی گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ اس حملے میں تین دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔
اسی طرح، جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی فائرنگ سے دو خواتین سمیت تین شہری زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔
فوجی قیادت کا عزم: دہشت گرد ٹھکانوں کا خاتمہ تک جاری رہے گا آپریشن
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم نہیں ہو جاتے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوتی۔
چین کی ثالثی میں امن مذاکرات میں پیشرفت
اس دوران چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ صورتحال کو مزید بگاڑنے والے اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے۔
پاکستان نے مذاکرات کے لیے اپنا ایک وفد چین روانہ کیا ہے جس کی قیادت وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ پاکستان مذاکرات کے لیے پرامن ہے لیکن دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
سرحد پر باربی وائر ہٹانے کی افواہوں کی تردید
وزارت اطلاعات نے افغان طالبان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاک افغان سرحد سے باربی وائر ہٹانے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور حقائق سے عاری قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
طورخم بارڈر پر افغان شہریوں کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع
ادھر، طورخم بارڈر پر غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ بارڈر حکام کے مطابق، ملک بھر سے لائے گئے 11 غیر قانونی افغان شہریوں کو حمزہ بابا ٹرانزٹ کیمپ منتقل کر کے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 150 سے زائد افغان قیدیوں کو مختلف جیلوں سے ٹرانزٹ کیمپ منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی دستاویزات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
