تہران: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے امریکی اہلکار اور معاملے کی جانکاری رکھنے والے دو ذرائع کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے۔
پاکستان میں ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقاتیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں اپنے دورے کے دوران یہ تجویز پیش کی۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پاکستانی، مصری، ترک اور قطری ثالثوں کو واضح کیا کہ ایرانی قیادت میں امریکی مطالبات سے نمٹنے کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔
تجویز کی تفصیلات
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کے تحت فوری توجہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے پر ہوگی۔ موجودہ جنگ بندی کو طویل مدت کے لیے بڑھایا جائے گا یا مستقل جنگ بندی میں تبدیل کیا جائے گا۔ جوہری معاملے پر مذاکرات صرف اس وقت شروع ہوں گے جب آبنائے ہرمز تک رسائی بحال ہو جائے گی اور ناکہ بندی سے متعلق خدشات دور ہو جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ یہ حساس سفارتی مذاکرات ہیں اور امریکہ پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اپنے عوام کو ترجیح دیتا ہے اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر اختلافات
دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک محدود نہیں ہیں۔ ٹرمپ ایران کی علاقائی پراکسیوں کی حمایت روکنے اور اس کی بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ایران پابندیاں ختم کرنے اور اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا موقف
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ فون کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور یہ معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔
