رزمک: شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک افسر نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ پانچ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہفتے کے روز یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔
بھارتی سرپرستی میں چلنے والے فتنہ الخوارج کا خاتمہ
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب بھارت کی سرپرستی میں چلنے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔
بہادری سے لڑتے ہوئے میجر حافظ احسان الٰہی شہید
آپریشن کے دوران 34 سالہ میجر حافظ احسان الٰہی جو ضلع میانوالی کے رہائشی تھے، اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ فوج کے مطابق افسر نے جان کی بازی لگانے سے پہلے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا۔
پنجاب سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 54 مشتبہ افراد گرفتار
دوسری جانب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب نے صوبے بھر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 54 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے منسلک پانچ مبینہ ایجنٹ بھی شامل ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، سرگودھا، جہلم، پاکپتن، گوجرانوالہ، ساہیوال اور اوکاڑہ سمیت مختلف اضلاع میں 419 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ گرفتار ملزمان سے دھماکہ خیز مواد، 12 آئی ای ڈیز، 42 ڈیٹونیٹرز، 98 فٹ حفاظتی فیوز تار، کالعدم لٹریچر اور نقدی برآمد کی گئی۔
