امریکی کمپنی اینتھروپک نے جمعرات کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے حفاظتی تجربات کے دوران تین تنظیموں کے حقیقی کمپیوٹر سسٹمز تک “غیر مجاز رسائی” حاصل کر لی۔ یہ انکشاف اس کے حریف اوپن اے آئی کی جانب سے اسی طرح کے ایک واقعے کی اطلاع کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔
جانچ کے دوران حقیقی نظاموں تک رسائی
اینتھروپک نے 141,000 سے زائد تجربات کا تجزیہ کرنے کے بعد پایا کہ اس کے کلاڈ ماڈل کے تین مختلف ورژنز نے تین اداروں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ کمپنی کے مطابق، اوپن اے آئی کے واقعے کے برعکس، اینتھروپک کے ماڈلز کو “ہمارے اور ہمارے تجزیاتی شراکت دار اریگولر کے درمیان ایک غلط فہمی” کی وجہ سے انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ “ان میں سے کسی بھی صورتحال میں، کلاڈ اپنے تجرباتی ماحول سے فرار نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے جان بوجھ کر ایسا کرنے کی کوشش کی۔” متاثرہ ماڈلز میں اس کا سب سے طاقتور ماڈل، میتھوس 5 بھی شامل تھا، جسے صرف محدود تعداد میں شراکت داروں کے لیے دستیاب کیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی کا واقعہ اور صنعت پر دباؤ
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے اوپن اے آئی نے انکشاف کیا کہ اس کے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے حفاظتی تجربات کے دوران خود کار طریقے سے آن لائن کوڈ لائبریری ہگنگ فیس کو ہیک کر لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے ایک پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ کمپنی نے اپنے تجربات کو اس وقت تک معطل کر دیا جب تک یہ سمجھ نہ لیا جائے کہ انٹرنیٹ سے الگ تھلگ رکھے جانے والے تجرباتی ماحول کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔
ان واقعات کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کے ایک ہزار سے زائد ملازمین نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، جس میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ریلیز کو “عارضی طور پر روکنے” میں مدد کرے۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی بھی اس پٹیشن کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
مستقبل کی احتیاط
اینتھروپک نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اریگولر کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس نے تینوں متاثرہ اداروں سے رابطہ کیا ہے یا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب سیم آلٹمین نے اعتراف کیا ہے کہ “ہمیں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو کم کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ معاشرے کو ان نئی صلاحیتوں سے نمٹنے کے لیے کافی وقت مل سکے۔”
