وزیراعظم شہباز شریف نے وینا میں کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کی کمپنیوں کو پاکستان میں مواقع کی تلاش کی دعوت دی
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ ملاقات کے بعد پاکستان-آسٹریا کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم کا اسلام آباد میں انعقاد
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان اپریل کے آخر میں اسلام آباد میں یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم کی میزبانی کرے گا، جس میں آسٹریا کی کمپنیوں کی شرکت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرے گی۔ انہوں نے آسٹریا کے کاروباری رہنماؤں کو پاکستان کا دورہ کرنے کی ذاتی دعوت دی، جہاں انہیں سرمایہ کاری کے مواقع اور ملک کے قدرتی حسن سے روشناس کرایا جائے گا۔
قابل تجدید توانائی اور انجینئرنگ میں آسٹریائی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی اپیل
شہباز شریف نے خطاب میں پاکستان میں قابل تجدید توانائی، زراعت، کان کنی اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے اہم شعبوں میں وسیع صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا:
- آسٹریا کو انجینئرنگ، قابل تجدید توانائی، ماحولیاتی ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ میں عالمی معیار کی مہارت حاصل ہے۔
- پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ آسٹریا کی مہارت سے ترشاوہ پھلوں اور دیگر اجناس میں قدر میں اضافہ کرکے برآمدی مارکیٹوں تک رسائی بڑھائی جا سکتی ہے۔
- آسٹریا کی کمپنیوں کو پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں، گرڈ کی جدید کاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔
غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور
وزیراعظم نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال درجنوں پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جو اکثر انسانی اسمگلروں اور دیگر مجرموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آسٹریا، جرمنی اور فرانس جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
نوجوانوں کو جدید ہنر سے آراستہ کرنے کی حکومتی کوششیں
شہباز شریف نے بتایا کہ ملک کی 24 کروڑ آبادی کا تقریباً 60 فیصد نوجوان ہے جو عالمی ٹیکنالوجی اور صنعتی ویلیو چینز میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا:
- ہم اپنے نوجوانوں کو جدید تربیت سے آراستہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیپ ٹاپ، مصنوعی ذہانت کی مہارتیں، آئی ٹی کی بنیاد پر تعلیم، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت وفاقی اور صوبائی سطح پر متعارف کرائی جا رہی ہے۔
- پاکستان یورپی مارکیٹس میں مانگ کے جواب میں بین الاقوامی سطح پر سرٹیفائیڈ ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عہد
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی تعلقات اور دہائیوں پر محیط آسٹریائی کاروباری مصروفیت کی بنیاد پر دیرینہ دوستی کا اشتراک کرتے ہیں، خاص طور پر کیبل کار انسٹالیشن، معدنیات اور قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں اقتصادی سرگرمی کی سطح مختلف وجوہات کی بنا پر کم ہوئی ہے، لیکن آسٹریائی فرمز نے پاکستان میں اہم شراکت کی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار، امن و سلامتی کے چیلنجز، پائیدار ترقی، موسمیاتی کارروائی اور انسانی حقوق کے تحفظ و فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقین نے کثیرالجہتی نظام کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
