اسلام آباد: پاکستان کے فوجی سربراہ نے امریکی صدر سے ملاقات میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں موجودہ قیادت کا خاتمہ ہوتا ہے تو پاک ایران سرحد پر عسکریت پسند اور علیحدگی پسند گروپ اس عدم استحکام کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند اس موقع کو اپنے حملے تیز کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں، اور اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنا یا اسے گرانا ہے۔ پاکستان کو یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ ایسے حالات میں پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی حال ہی میں تصادم ہوا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف، جنرل عاصم منیر، نے امریکہ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران اسرائیل تنازعہ پر پاکستان کے موقف کا اظہار کیا۔ پاکستانی فوج نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک اس تنازع کو حل کرنے کی اہمیت پر متفق ہیں۔
پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کو ایک قریبی دوست سمجھتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔
سرحد پر سرگرم عسکریت پسند گروپوں نے موجودہ صورت حال کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اپنے حق میں بہتر موقع قرار دیا ہے۔ جیش العدل جیسے گروپوں نے ایران کے ساتھ تنازعہ کو اپنے لیے مفید سمجھا ہے۔
پاکستان میں یہ خدشہ بھی ہے کہ اس کی اپنی بلوچ اقلیت جو ایران میں مقیم ہیں، وہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ غیر مستحکم علاقے دہشت گرد گروپوں کے لیے زرخیز زمین بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ ساتھ افغانستان اور بھارت سے بھی ملتی ہیں، اور وہ ان سرحدوں پر مزید کسی عدم استحکام کی صورت حال نہیں چاہتا۔ ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آباد بلوچ اقلیتوں کو شکایت ہے کہ انہیں مناسب حقوق نہیں دیے جا رہے، اور وہ علیحدگی پسندی کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔
ایران پر اسرائیل کی بمباری سے پہلے، تہران بھارت کے قریب تھا، جس نے اسرائیل کی بمباری کی مذمت نہیں کی۔ جبکہ چین نے بھی بلوچستان میں سکیورٹی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں وہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
پاکستان اور ایران دونوں کے لئے یہ وقت حساسیت سے بھرا ہوا ہے، اور دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر ان مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔




