ٹرینیڈاڈ: پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر ویسٹ انڈیز کے تیز گیند بازوں کے سامنے ڈھیر ہو گئی اور دو میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میزبان ٹیم نے چوتھے روز 90 رنز سے جیت لیا۔ منگل کو یہاں ایک بگڑتی ہوئی پچ پر 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم کبھی بھی مقابلے میں نظر نہیں آئی اور چائے کے وقفے کے فوراً بعد 40.2 اوورز میں 120 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
پاکستان کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہو سکتی تھی جب ٹیم 71 رنز پر 9 وکٹیں گنوا بیٹھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کا سب سے کم ترین ٹیسٹ اننگز کا سکور بننے والا ہے۔ تاہم، باؤلنگ ہیرو محمد عباس نے کپتان بابر اعظم کے ساتھ مل کر آخری وکٹ کی شراکت میں 49 رنز جوڑے، اس سے پہلے کہ جیڈن سیلز نے عباس کو 23 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر کے میچ کا خاتمہ کیا۔ سیلز نے پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بابر اعظم کی ناقابل شکست اننگز بھی ناکافی
کپتان بابر اعظم 58 رن پر ناقابل شکست رہے، لیکن ان کی تنہا کوشش ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔ پاکستان اب اتوار سے پورٹ آف اسپین کے کوئنز پارک اوول میں شروع ہونے والے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں مسلسل چار شکستوں اور اپنے گزشتہ 17 ٹیسٹ میچوں میں 13 ویں ناکامی کے بوجھ تلے اترے گا۔ یہ پاکستان کی گھر سے باہر مسلسل آٹھویں ٹیسٹ شکست بھی تھی۔
پاکستانی ٹیم کا یہ مظاہرہ تیسرے روز کے واقعات کا اعادہ تھا جب انہوں نے 38 رنز کے عوض 7 وکٹیں گنوا دی تھیں، تین وکٹوں کے نقصان پر 244 سے پوری ٹیم 282 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی اور اسے 29 رنز کی خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ویسٹ انڈیز کی جوابی بیٹنگ اور عباس کی باؤلنگ
تیسرے روز کے آخر میں پاکستان نے گیند سے شاندار واپسی کی تھی، لیکن ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 181 رنز بنائے۔ چوتھی صبح شمر جوزف کی 27 گیندوں پر 38 رنز کی جارحانہ اننگز کی بدولت میزبان ٹیم نے مزید 55 رنز کا اضافہ کیا۔ محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 22 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں، لیکن اس کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ ہدف ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ سابق کپتان شان مسعود، جنہوں نے پہلی اننگز میں سنچری بناتے ہوئے انگلی میں فریکچر کروایا تھا، بہادری سے 58 رنز پر 6 وکٹوں کے نقصان پر بیٹنگ کے لیے آئے، لیکن جیڈن سیلز کا شکار بن گئے۔
جسٹن گریوز کا شاندار آل راؤنڈ مظاہرہ
جس دن عظیم آل راؤنڈر گارفیلڈ سوبرز 90 سال کے ہوتے، انہی کے نقش قدم پر چلنے والے بارباڈین جسٹن گریوز نے دو وکٹیں حاصل کیں اور میچ میں مجموعی طور پر 39 رنز کے عوض 7 وکٹوں کی کارکردگی پر ‘پلیئر آف دی میچ’ کا ایوارڈ جیتا۔
گریوز نے کہا، “یہ سب نظم و ضبط کے بارے میں تھا۔ محمد عباس کو پہلی اور دوسری اننگز میں دیکھ کر، ہم نے ان کی نقل کرنے کی کوشش کی اور یہ ہمارے لیے کافی اچھا ثابت ہوا۔”
بابر اعظم کا ایماندارانہ اعتراف
بابر اعظم نے اپنی ٹیم کی بیٹنگ کی کمزوریوں پر ایمانداری سے بات کی۔ انہوں نے کہا، “یہ پچ اچھی ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ اس مرحلے پر گیند کچھ اوپر نیچے ہو گی اور نئی گیند سے موومنٹ بھی ہوگی۔ ہم نے اس کے لیے تیاری کی تھی۔ لیکن انہوں نے بہت اچھی باؤلنگ کی، کنڈیشنز کا فائدہ اٹھایا، اور ہم کوئی شراکت قائم نہیں کر سکے۔”
ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیس نے اپنی تقرری کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک ناکامی کے بعد تین میچوں میں دوسری ٹیسٹ جیت کا لطف اٹھایا۔ انہوں نے کہا، “مجھے پسند ہے کہ یہ ٹیم کیسے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم صرف ایک یا دو کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کر رہے۔ اہم موقعوں پر ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔”
