اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔p>
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی پر شدید مذمت
انہوں نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی بار بار دراندازیوں اور فلسطینی نمازیوں پر عائد پابندیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیاں مقدس مقام کی حرمت کو پامال کرتی ہیں، کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور ایمن الصفدی نے بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اردن کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اردن کی جانب سے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف
اردنی وزیر خارجہ الصفدی نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور سفارتی کوششوں کو سراہا۔
فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، اسحاق ڈار نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے لیے اسلام آباد کی پشت پناہی کو دہرایا۔
انہوں نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں پاکستان کے اصولی موقف کی بھی توثیق کی۔
