ENGLISH_SLUG nepra-quarterly-tariff-hike-karachi-pakistan
کراچ: ملک بھر میں بجلی کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (پرا) سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میکنزم کے تحت فی یونٹ بجلی 134 روپے مہنگی کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا اطلاق مسلسل ت ماہ تک رہے گا۔
نیپرا کے مطابق، بجلی کی تقسیم کارپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ لیا گیا ہے۔ مجوزہ اضافے کی حتمی منظوری تفصیلی جائزے کے بعد دی جے گی۔
صارفین پر 34 ارب روپے کا اضافی بوجھ
ذرائع کے مطابق، اگر نیپرا مجوزہ سہ ماہی ایڈجسٹمن کی منظوری دے دیتی ہے تو بجلی صارفین پر 34 ارب روپے کا اضافی مالی بوج پڑے گا۔ یہ اضافہ ان صارفین کے لیے ایک اور دھچکا ہو گا جو پہلے ہی مہنگائی اور توانائی کے بلند نرخوں سے دوچار ہیں۔p>
سہ ماہی ایجسٹمنٹ میکنزم کے تحت بجلی کی پیداواری لاگت، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر عوامل کا جائزہ لے کررخوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ ڈسکوز کی درخواست پرپرا نے سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
کن صین پر اثر پڑے گا؟
مجوزہ اضافے کا اطلاق کراچییت ملک کے تمام علاقوں کے صارفین پر ہو گا۔ کے الیکٹرک کے صارفینھی اس اضافے سے متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی اطلاق نیرا کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہو گا۔- فی یونٹ اضاف: 1.34 روپے
- مدت: تین ماہ
- صارفین مجموعی بوجھ: 34 ارب روپے
- فیصلہ: نیپرا نے محفوظ لیا
ماہرین کے مطابق، بجلی کی قیمتوں میں بار بارافے سے صنعتی پیداواری لاگت بھی بڑھے گی، جس کا اثر بالآ عام صارفین تک پہنچے گا۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں اور لائناسز جیسے مسائل بھی نرخوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
نیپرا کی جانب سے حتمی فیصلہ آنے تک صارفین کو موجودہ نرخوں پر ہ بل ادا کرنے ہوں گے، تاہم اگر منظوری ملتی ہے تو اضافے کا اطلاقہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مدت سے کیا جائے گا۔
