کراچ: سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کو صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہراچی کے کسم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آ وی کی منتقلی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔
جسٹس عدنان الکریممن اور جسٹس محمد جعفر رضا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس معاملے کی سم کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔
دو ماہ میں رپورٹ ط
عدالت نے حکم دیا کہ انکوائری کمیٹی میں دو گریڈ کے افسران شامل کیے جائیں جن کا اسپتال یا تحقیقات سے کوئی انتظامی تعلقہ ہو۔ کمیٹی کو دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کیدایت کی گئی ہے۔>
تحقیقات میں متاثرہ بچوں میں ایچ آئی کی منتقلی کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ تعین کیا جائ گا کہ آیا اسپتال میں ڈسپوزایبل سرنجیں یا دیگر طبی آلات دوبہ استعمال کیے گئے تھے۔
ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فویج تک رسائی
انکوائری کمیٹی آٹو لاک سرنجوں کی خریداری ذخیرہ اندوزی اور استعمال سے متعلق ریکارڈ کا بھی جائزہ لے اور طبی، نرسنگ، تکنیکی اور انتظامی حکام کی ذمہ داریوں کا تعین کر گی۔ کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ آیا ڈسپوزایبل سرنجز اٹ سمیت متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
رہ بچوں کے علاج اور معاوضے کا حکم
عدالت نے سندھ حکت کو یہ بھی ہدایت کی کہ تمام متاثرہ بچوں کے لیے بلاتعطل علاج کو یقینی بنایا جائے۔ حکم دیا گیا کہ حکومت یا متعلقہ سل سیکیورٹی ادارہ ادویات، ٹیسٹوں اور دیگر ضروری طبی دیکھ بھال کے اخراجات برداشت کرے۔
سندھ ہائی کورٹ نے مزید ہدایت کی کہاثرہ بچوں ان کے اہل خانہ کو معاوضہ یا دیگر قانونی ریلیف فراہ کیا جائے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں کسی قسم کے امازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت نے زور دیا کہ بچ کی شناخت اور طبی معلومات کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
>سھ کے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت کو بھی ہدایت کی گئی کہڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کوقینی بنایا جائے۔
وکیل کے طرز عمل پر توہین عدالت ک نوٹس
سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل طارق منصور طرز عمل کا بھی نوٹس لیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سھ آنے والے لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی اور کمرہ عدالت کے اندر ویڈوز ریکارڈ کرنے کی اجازت دی جس سے کارروائی میں خلل پڑا۔
>عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ طرز عمل بظاہر توہین عدالت زمرے میں آتا ہے اور وکیل کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ انہیں تحیری جواب جمع کرانے اور توہین عدالت کی کارروائی میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہایت کی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ نے سندھ ہائی کٹ بار اورندھ بار کونسل کو بھی ہدایت کی کہ وہ وکیل کے طرز عمل کے حوالے مناسب قانونی کارروائی کریں۔
