مرکزی بینک کا اعلان
وفاقی حکومت نے تمام برآمدات پر عائد ترقیاتی سرچارج (ای ڈی ایس) کو فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان مرکزی بینک نے اپنے نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا ہے۔ بینک نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جاری کردہ تمام پرانے سرکلرز بھی یکسر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
فیصلے کی تفصیلات
یہ سرچارج مالیاتی ایکٹ 1991 کے سیکشن 11 کے تحت عائد کیا گیا تھا جس کی شرح 0.25 فیصد تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والی ایک اجلاس میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔
فیصلے کے پیچھے عمل
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نجی شعبے کی قیادت میں بننے والی ورکنگ گروپس کے قیام کے محض کچھ دنوں بعد لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “فیصلہ سازی اور عمل درآمد کی یہ رفتار حکومت پاکستان کی کاروبار کی لاگت کم کرنے اور سرمایہ کاروں و برآمد کنندگان کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی خواہش و عزم کو ظاہر کرتی ہے۔”
ورکنگ گروپ کا کردار
وزیراعظم نے مسدق زلقارنین کی سربراہی میں برآمداتی ترقیاتی فنڈ (ای ڈی ایف) کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی سفارشات دینے کے لیے ایک مخصوص ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔ اس گروپ میں نجی شعبے کے نمائندوں کے علاوہ سیکرٹری کامرس بلال اعظم کیانی، ای ڈی ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مشرف زیدی، شہزاد سلیم، مصباح نقوی، خرم مختار، عارف سعید، احمد عمر اور صالح فاروقی شامل تھے۔
توقع کے اثرات
ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے برآمد کنندگان کو لاگت کے دباؤ میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ان کی عالمی منڈیوں میں مسابقت کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔ یہ حکومت کی برآمدات کو فروغ دینے اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
