سفیر رضوان سعید شیخ کا امریکی ٹی وی پر اہم انٹرویو
پاکستان کے امریکہ میں سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، حالیہ جنگ بندی اور اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے وسیع پیمانے پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک غیر جانبدار معاون کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ذمہ داری براہ راست فریقین پر عائد ہوتی ہے۔
علاقائی شراکت داروں کی حمایت
سفیر شیخ نے این بی سی کے پروگرام ‘میٹ دی پریس’ پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس پورے عمل میں پاکستان کو سعودی عرب، مصر، ترکی سمیت متعدد علاقائی شراکت داروں کی حمایت اور تعاون حاصل رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنی طویل المدتی مثبت سفارتی روایت کو برقرار رکھا ہے۔
مذاکرات میں ‘تعمیری جذبہ’
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ مذاکرات میں شامل فریقین کے درمیان ایک ‘تعمیری جذبہ’ واضح نظر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی مکالمہ اور تفہیم موجودہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بین الاقوامی برادری پرامن نتیجے کے لیے نیک تمنائیں ظاہر کر رہے ہیں۔
تنازعے کی مختصر تاریخ اور موجودہ صورت حال
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کا یہ تنازعہ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ہم آہنگ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا اور ملکی فوجی و جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ ہفتوں میں دو ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔
تہران نے ردعمل میں پورے خطے میں کارروائیاں تیز کر دیں، ہرمز کے آبنائے سے جہاز رانی مؤثر طور پر معطل کر دی اور اسرائیلی علاقوں کے ساتھ ساتھ خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔
جنگ بندی اور مذاکراتی فریم ورک
8 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اس تصادم کو روک دیا۔ جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا آغاز ہوا۔
- امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی امن فریم ورک میں ایران کے افزودہ یورینیم، بیلسٹک میزائل، پابندیوں میں نرمی اور ہرمز کے آبنائے کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔
- ایران نے اس کے جواب میں ایک 10 نکاتی تجویز پیش کی ہے جس میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر زیادہ کنٹرول، ٹرانزٹ ٹولز کا نفاذ، خطے میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور پابندیوں کی جامع طور پر منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
جنگ بندی میں پاکستان کے معاون کردار کو بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے، جس میں متعدد ممالک نے تنازعے میں تخفیف اور امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سفیر شیخ نے اپنے بیان میں موجودہ مرحلے پر سفارت کاری کو مکمل موقع دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
