اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات جاری رکھے جائیں گے، یہ بات انہوں نے ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے درمیان ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
ہرمز آبنائے پر امریکی ناکہ بندی اور عالمی خدشات
وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے ساتھ اسلام آباد مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے کے اختتام کے بعد ہرمز آبنائے پر ناکہ بندی عائد کر دی ہے، جس سے عالمی شپنگ بالخصوص ایندھن کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پٹرولیم ذخائر کا جائزہ اور حکام کو ہدایات
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکام کو تیل کے استعمال پر مسلسل نگرانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ موثر منصوبہ بندی اور نگرانی کی بدولت اب تک صورتحال کے باوجود کسی قسم کی قلت نہیں آنے دی گئی۔
حکام کا بریفنگ اور مستقبل کے اقدامات
حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم کے مناسب ذخائر موجود ہیں، جبکہ تحفظ کے اقدامات کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی اطلاع دی کہ متوقع طلب کو پورا کرنے کے لیے مستقبل میں تیل کی درآمدات کے انتظامات محفوظ کر لیے گئے ہیں۔
حالیہ ریلیف اقدامات اور قیمتوں میں کمی
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں دو بار کمی کی ہے — فی لیٹر 91 روپے 83 پیسے تک — اور ڈیزل کی قیمت میں 134 روپے 81 پیسے فی لیٹر کی کمی کی ہے، جو اس ماہ کے شروع میں پٹرول پر 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل پر 184 روپے 49 پیسے کی تیز اضافے کے بعد آئی ہے۔
وزیراعظم نے عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹرز کے لیے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ریلیف ادائیگیوں کا اعلان بھی کیا تھا، جس کا مقصد جاری ایندھن کے بحران کو کم کرنا اور پیٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی مدد کرنا ہے۔
اجلاس میں شرکت
اس اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے سینئر اہلکاران نے شرکت کی۔
