اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 اربپے کے کل حجم کا بجٹ پیش کیا۔ یہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران سے پیدا ہونے والی نازک معاشی صورتحال میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اپنی مدت کا تیسرا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان نے اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر لی ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ گزشتہ سال بھارت کو ذلت آمیز شکست دینے کے بعد پوری دنیا پاکستان کا نوٹس لینے پر مجبور ہو گئی۔
بجٹ دستاویز پر شور شرابہ اور ہاتھا پائی
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران شور شرابا دیکھا گیا، جہاں اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی جبکہ حکومتی اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف کے استقبال میں ڈیسکیں بجائیں۔ پی ٹی آئی کے اراکین پلے کارڈز اور پوسٹرز بھی ایوان میں لائے اور ایک موقع پر حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کے اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
بجٹ کی بڑی مدات: قرض ادائیگی سرفہرست
مجوزہ 18 ہزار 771 ارب روپے کے بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سب سے بڑا حصہ 8.054 کھرب روپے مارک اپ ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، اس کے بعد دفاع کے لیے 3 کھرب روپے اور وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1 کھرب روپے شامل ہیں۔
معاشی اشاریے اور مالی استحکام
وزیر خزانہ نے بتا کہ مالی سال 27-2026 میں معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اوسط افراط زر کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی استحکام میں بہتری کے نتائج واضح ہیں، جہاں مالی خسارہ جون 2023 میں جی ڈی پی کے 7.8 فیصد سے کم ہو کر رواں مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد رہ جانے کا تخمینہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو سال قبل پاکستان کو جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے مساوی بنیادی خسارے کا سامنا تھا، جسے حکومت نے 1.6 فیصد کے سرپلس میں تبدیل کر دیا ہے۔ رواں سال اوسط افراط زر کی شرح تقریباً 7 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو امریکہ ایران جنگ کے باوجود رواں مالی سال کے 7.5 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور چار مختلف آمدنی والے گروپوں کے لیے ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے:
- 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز۔
- 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کی آمدن پر شرح 30 فیصد سے 25 فیصد۔
- 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کی آمدن پر شرح 35 فیصد سے 29 فیصد۔
- 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کی آمدن شرح 35 فیصد سے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
مزید برآں، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کے فروغ کے لیے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک کی کاروباری آمدنی پر 1 سے 7.5 فیصد تک کے سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات
وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کے باوجود پاکستان نے توانائی کے شعبے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں حکومت نے توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ بجلی کے شعبے میں 143 ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل کی گئی ہے اور سرکلر ڈیٹ میں خالص صفر کے اضافے کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
حکومت نے قطر اور اٹلی کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرتے ہوئے 2026 کے لیے 35 ایل این جی کارگو میں کمی پر اتفاق کیا ہے، جس سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچے گا۔
نجکاری اور کارپوریٹ سیکٹر کی کارکردگی
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر معاشی بہتری کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جنوری تا مارچ 2026 میں کارپوریٹ سیکٹر نے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ منافع کمایا۔ رواں سال اب تک 11 آئی پی اوز لانچ کی جا چکی ہی، جو گزشتہ دو دہائیوں میں ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو 185 ارب روپے میں نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکومت اب پانچ سالہ منصوبے کے تحت ڈسکوز، گینکوز، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں سمیت متعدد سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے سپرد کرے گی۔
قرضوں کے انتظام میں نمایاں بہتری
وزیر خزانہ نے رواں سال قومی قرضوں میں 68.5 فیصد کمی کو ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ گزشتہ دو سالوں میں حکومت نے قبل از وقت قرضوں کی واپسی اور مہنگے قرضوں کو کم لاگت والے قرضوں سے تبدیل کر کے اپنے قرضوں کے بوجھ میں 4.9 کھرب روپے کی کمی کی ہے۔ مقامی قرضوں کی اوسط میچورٹی 2024 میں 2.8 سال سے بڑھ کر مئی 2026 میں 3.8 سال ہو گئی ہے۔
