نیویارک: (اے ایف پی) پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت سے تمام تصفیہ طلب مسائل پر نتیجہ خیز، ہمہ جہت اور کثیرالجہتی مذاکرات کی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘جرات مندانہ اور بصیرت افروز’ قیادت کو بھی سراہا۔
جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، ایک ایسا کثیرالجہتی، جامع اور نتیجہ خیز مکالمہ جو تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل تلاش کرے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “جنوبی ایشیا کو فعال، اشتعال انگیزی سے پاک قیادت کی ضرورت ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بیانات وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو ہونے والی اپنی ملاقات کے اگلے روز دیے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی اس کردار کی تعریف کی جو انہوں نے گزشتہ مئی میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ادا کیا۔ شہباز شریف کے مطابق، اگر صدر ٹرمپ نے بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نہ کی ہوتی تو ایک مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہو سکتے تھے۔ پاکستان نے مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ مئی میں کشمیر کے تنازعے پر چار روز تک شدید کشیدگی جاری رہی تھی۔ دونوں جوہری طاقتیں 1947 میں تقسیم ہند کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقے کشمیر کی مکمل خود مختاری کا دعویٰ کرتی ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت تھمی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔ تاہم، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات کی تردید کی تھی کہ امریکی صدر نے اس امن میں کوئی ثالثی کی تھی۔
اسی دوران، امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں بھی حال ہی میں کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ 27 اگست کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری کے جواب میں بھارتی برآمدات پر 50 فیصد اضافی محصولات عائد کر دیے تھے۔ نئی دہلی نے امریکہ میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں استعمال ہونے والے ورک ویزوں پر 100,000 ڈالر کی نئی فیس کے نفاذ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جو کہ بڑی تعداد میں ہنر مند بھارتی کارکنان استعمال کرتے ہیں۔

