نیویارک: سیکرٹری خارجہ آسیم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان مکہ معاہدے کے تحت اضافی ذمہ داری ادا کر رہا ہے اور خطے میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری
نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے خاتمے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق پرامن حل تلاش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چارٹر میں تنازعات کو جنگ کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
تینوں ممالک مکہ معاہدے کا حصہ
آسیم افتخار احمد نے بتایا کہ تینوں ممالک مکہ معاہدے کا حصہ ہیں اور پاکستان اس معاہدے کے تحت اضافی ذمہ داری اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم تسلیم کرتے ہیں کہ صورتحال منفی سمت میں بڑھ رہی ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔”
خطے میں امن و استحکام پاکستان کا مقصد
سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایران اور امریکہ کے تنازعے کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس تنازعے سے متعلق کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اقوام متحدہ امن کے فروغ میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی اور پاکستان کی سفارت کاری
پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اسلام آباد مکہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور مکالمے و کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
- پاکستان مکہ معاہدے کے تحت اضافی ذمہ داری ادا کر رہا ہے
- جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی پر زور
- فلسطین اور کشمیر کے تنازعات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونے چاہئیں
- خطے میں امن و استحکام پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی مقصد
