پاکستان کے نوجوان مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) فائٹرز نے ایشین چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ محمد ثاقب اور محمد جواد نے اپنے اپنے سیمی فائنل مقابلوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کیا۔
سیمی فائنل میں شاندار فتوحات
محمد ثاقب نے انڈر 18 کیٹیگری کے سیمی فائنل میں قازقستان کے ایک مضبوط حریف کو شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ یہ مقابلہ انتہائی اہم تھا اور ثاقب نے اپنی تکنیکی مہارت اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب، محمد جواد نے انڈر 16 کیٹیگری میں کرغزستان کے فائٹر کے خلاف کامیابی سمیٹی۔ جواد نے اپنی پھرتی اور حکمت عملی سے حریف کو زیر کیا اور ٹائٹل باؤٹ میں رسائی حاصل کی۔
فائنل میں قازقستان سے ٹکراؤ
دونوں پاکستانی فائٹرز اب اپنے اپنے چیمپئن شپ مقابلوں میں قازقستان کے کھلاڑیوں کے خلاف اتریں گے۔ یہ مقابلے انتہائی سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے کیونکہ قازقستان کے فائٹرز بھی اعلیٰ معیار کے حامل ہیں۔
ثاقب کا گولڈ میڈل کا تجربہ
محمد ثاقب اس فائنل میں شاندار ریکارڈ کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے 2024 کی گاما ورلڈ ایم ایم اے چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا تھا، جو ان کے اعتماد اور صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا عالمی سطح کا تجربہ ایشین چیمپئن شپ میں ان کے لیے اہم ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
فیڈریشن کی جانب سے اعتماد کا اظہار
پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے صدر ذوالفقار علی نے قومی فائٹرز کی شاندار کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں مزید کامیابی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کھلاڑی بہترین فارم میں ہیں اور ان سے گولڈ میڈل کی امید کی جا سکتی ہے۔
پاکستانی شائقین کی نظریں اب فائنل مقابلوں پر جمی ہوئی ہیں جہاں ثاقب اور جواد ملک کے لیے تاریخ رقم کرنے کی کوشش کریں گے۔
