لاہور (خصوصی رپورٹ): شاہی قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد اور گردوارہ ڈیرہ صاحب کے درمیان واقع مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی آج بھی پنجاب کے اہم ترین تاریخی اور ثقافتی ورثے کے طور پر قائم ہے، جو سکھ سلطنت کے بانی کی عظیم داستان کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
گوجرانوالہ سے لاہور تک کا شاندار سفر
سنہ 1780 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پورے پنجاب کو متحد کرکے ایک مضبوط اور منظم سکھ ریاست قائم کی جس کا دارالحکومت لاہور کو بنایا گیا۔ ان کی انتظامی صلاحیتیں، مذہبی رواداری کی پالیسی اور طاقتور فوج ان کی پہچان بنی، جس نے انہیں برصغیر کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام عطا کیا۔
بارہ دری سے سمادھی تک کا سفر
سنہ 1839 میں ان کی وفات کے بعد، اس مقام پر ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں جہاں اب یہ سمادھی قائم ہے۔ اس یادگار کی تعمیر کا آغاز مہاراجہ کھڑک سنگھ نے کیا اور بعد میں آنے والے سکھ حکمرانوں کے دور میں اسے مکمل کیا گیا۔ گردوارہ ڈیرہ صاحب کے ہیڈ گرنتھی گیانی رنجیت سنگھ کے مطابق، یہ عمارت دراصل ایک بارہ دری تھی جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ شاہی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے، بعد میں اسے ایک یادگاری سمادھی میں تبدیل کر دیا گیا۔
مشرقی فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ
یہ یادگار اپنے مخصوص طرز تعمیر کے لیے بھی عالمی شہرت رکھتی ہے، جس میں سکھ، مغل اور ہندو ڈیزائن عناصر کا انوکھا امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ سرخ پتھر پر باریک تراشی، سنہری گنبد، رنگین شیشے کی آرائش، پھولوں کے ڈیزائن اور باریک کشیدہ کاری سے مزین لکڑی کی چھتیں انیسویں صدی کے پنجاب کی غیر معمولی دستکاری کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایک مشترکہ ثقافتی ورثے کی علامت
سمادھی کے اندر مہاراجہ کی راکھ سے منسوب یادگاری برتن رکھے گئے ہیں، جبکہ روایت ہے کہ ان کی زیادہ تر راکھ دریائے گنگا میں بہا دی گئی تھی۔ تقریباً دو صدیاں گزرنے کے بعد بھی، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی یہ سمادھی دنیا بھر سے سیاحوں، مورخین اور محققین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور یہ لاہور کے تاریخی منظرنامے کا ایک لازمی جزو ہے۔ یہ عمارت خطے کی مشترکہ ثقافتی وراثت کی علامت اور برصغیر کی غنی تاریخی داستان کی ایک یادگار کے طور پر کھڑی ہے۔
