OCUS_KEYWORD: National Minorities Day Pakistan
کراچی (یجیٹل نیوز) – پاکستان بھر میں آج قومی اقلیتی دن منگل منایا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک کی تعمیر و ترقی میںلیتی برادریوں کے مثبت کردار کو خراج تحسین پیش کرنا اور ان کے حقوق کو اجاگرنا ہے۔
پاکستان میں قومی اقلیتی دن منانے کا باقاعدہ آغاز11 اگست 2009 کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں ہواھا۔ تب سے ہر سال یہ دن اسی تاریخی تاریخ کو منایا جاتا ہے جو قائد اع محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر کی یاد دلاتا ہے۔
قائد اعظم کا پائیدار وژن اور اقلیتوں کا کردارملک کی ترقی میں اقلیتی برادری کا مثبت کردار بانی پاکستان قائدظم محمد علی جناح کے اس عہد اور تاریخی خطاب کا عکاس ہے جس کے تحت ہر شری، بلا تفریق، مساوی حقوق اور مکمل مذہبی آزادی کا حامل ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے ک ریاست کا کاروبار مذہب، ذات پ یا عقیدے سے بالاتر ہے۔صدر آصف علی زرداری کا پیغ
صدر آصف علی زرداری نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانے کے ع کی تجدید کرنی چاہیے جہاں انصاف، مساوات، رواداری اور انسانیت خدمت نمایاں خصوصیات ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ “ہں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کو ایک ایس پاکستان ورثے میں ملے جو امن، ترقی، استحکام اور باہمی احترام کییک روشن مثال ہو۔” صدر نے تمام پاکستانیوں، خصوصاً مذہبی اور نسلیلیتوں کو اس تاریخی دن کی گرمجوشی سے مبارکباد پیش کی۔
صدرملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں نے جنگوں صحت، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بی دیگر ہم وطنوں کے شانہ بشانہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ “پوریوم کو ان کی قومی خدمات، حب الوطنی اور ملک کی مجموعی ترقی میں ان کی گراں شراکت پر فخر ہے،” انہوں نے مزید کہا۔
وزیراع شہباز شریف کا قومی پیغام
وزیر اعظم محمد شہب شریف نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہر سال قومیلیتی دن اس پختہ عزم کے ساتھ مناتا ہے کہ اقلیتوں کی انمول موجود، قومی دھارے میں ان کی شمولیت اور قومی ترقی میں ان کی اہم شراک کا اعتراف کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پستان میں بسنے والی اقلیتیں قومی دھارے کا اٹوٹ حصہ ہں اور ملک کے متنوع سماجی و ثقافتی منظرنامے کی حقیقی خوبصورتی کیکاس ہیں۔ انہوں نے قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کی دستور ساز اسملی سے تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان نےح الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ لوگ اپنے مندروں، مساج یا کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔p>
شہباز شریف نے کہا کہ قائد اعظم کے یہ تاریخی الفاظ پاک کے سماجی نظام، طرز حکمرانی اور مذہبی اقدار میں ایک لازوال اور نابل فراموش مقام رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا ک یہ دن معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد، پرامن بقائے باہمی باہمی احترام اور سب کے لیے ترقی کے مساوی مواقع کے لیے پاکستان کے غیر متزل عزم کی توثیق کا دن ہے۔
