مظفر آباد (ڈیجیٹل ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر کے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، جس میں حلقہ ایل اے 14 باغ 1 سے مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتی احمد خان کی اپنے آبائی حلقے میں غیر متوقع شکست سب سے بڑی خبر ہے۔ انہیں جموں و کشمیر عوامی دست و بازو پارٹی کے سردار ساجد اقبال نے دوگنے سے زائد ووٹوں کے مارجن سے شکست دی۔
ایل اے 14 باغ 1: تاریخی شکست
حلقہ ایل اے 14 باغ 1 کے تمام 214 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج موصول ہو چکے ہیں، جن کے مطابق ایک بڑا سیاسی الٹ پھیر دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان اپنی آبائی نشست ہار گئے ہیں۔ یہ نشست جموں و کشمیر دست و بازو پارٹی کے سردار ساجد اقبال نے جیتی ہے۔ ساجد اقبال نے 40,702 ووٹ حاصل کیے جبکہ سردار عتیق کو صرف 19,542 ووٹ ملے۔ اس طرح ساجد اقبال کو سردار عتیق سے دوگنے سے بھی زیادہ ووٹ ملے۔
ایل اے 16 باغ 3: مسلم لیگ (ن) کو برتری
حلقہ ایل اے 16 باغ 3 کے 186 میں سے 84 پولنگ اسٹیشنوں کے غیرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سردار میر اکبر خان 9,243 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار قمر زمان خان 7,144 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 15 باغ 2: پیپلز پارٹی کی برتری
حلقہ ایل اے 15 باغ 2 کے 213 میں سے 45 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق، پیپلز پارٹی کے ضیا قمر 5200 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد مشتاق احمد منہاس 2244 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 17 باغ 4: ابتدائی رجحان
حلقہ ایل اے 17 باغ 4 کے 199 میں سے صرف 2 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محسن عزیز 443 ووٹوں کے ساتھ پہلے اور پیپلز پارٹی کے راجہ فیصل ممتاز راٹھور 344 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ان چاروں حلقوں میں 460,000 سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ تیسرے مرحلے میں حصہ لینے والے حلقوں میں ایل اے 14، ایل اے 15، ایل اے 16 اور ایل اے 17 شامل ہیں، جہاں کل 82 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق، پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام 5 بجے تک بغیر کسی تعطل کے جاری رہی۔ پولنگ کے اختتام کے بعد، انتخابی عملے نے متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی شروع کر دی۔ ابتدائی نتائج گنتی کی پیش رفت کے ساتھ ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم، چیف الیکشن کمشنر کے مطابق، ضلع پونچھ اور سدھنوتی کے حلقوں میں پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے 2026 کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے شیڈول پر نظر ثانی کرتے ہوئے موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پونچھ اور سدھنوتی اضلاع میں پولنگ ملتوی کر دی ہے۔ اصل شیڈول کے تحت 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے چار اضلاع کی 11 نشستوں پر پولنگ ہونا تھی۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ اب تیسرے مرحلے کی ووٹنگ صرف باغ اور حویلی اضلاع میں ہوگی، جبکہ پونچھ اور سدھنوتی کے تمام حلقوں میں پولنگ موخر کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ شیڈول سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے اور ملتوی شدہ حلقوں کے لیے نئی پولنگ تاریخ کا اعلان موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے بالترتیب 27 جولائی اور 2 اگست کو میرپور اور مظفر آباد ڈویژن میں منعقد ہوئے تھے۔ تصدیق شدہ نتائج کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ (ن) انتخابات میں سب سے آگے پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور وہ آزاد کشمیر میں اگلی حکومت بنانے کے لیے تیار ہے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ 21 حلقوں میں ہوئی، جن میں مظفر آباد ڈویژن کی نو نشستیں اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں شامل تھیں۔ غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے 15 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 6 نشستیں جیتیں۔ پہلے مرحلے میں، غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 9 اور پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کی تھیں
دونوں مراحل میں پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی اور تشدد کے الزامات لگائے گئے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات کو نہ آزادانہ اور نہ ہی منصفانہ قرار دیا اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کو چیلنج کیا کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات کو سیاسی دعوؤں کی بجائے ثبوتوں سے ثابت کیا جانا چاہیے۔
